دعوت الامیر — Page 5
دعوة الامير اسلام کو نعوذ باللہ گالیاں دیتے ہیں مگر ہم لوگ کسی کی مخالفت کی وجہ سے حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔ہم کسی پر فتویٰ اس بناء پر نہیں لگاتے کہ یہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔بلکہ ہم شریعت کے حکم کے ماتحت اسی بات پر بحث کرتے ہیں جسے انسان آپ ظاہر کرتا ہے۔اس کے بعد میں جناب کے سامنے اپنی جماعت کے عقائد پیش کرتا ہوں تا کہ جناب غور فر ماسکیں کہ ان عقائد میں کونسی بات خلاف اسلام ہے۔ا۔ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور اس کی ہستی پر ایمان لانا سب سے بڑی صداقت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ وہم و گمان کی اتباع۔۲۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں۔اُسکے سوا باقی سب کچھ مخلوق ہے اور ہر آن اس کی امداد اور سہارے کی محتاج ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی نہ باپ نہ ماں نہ بیوی نہ بھائی وہ اپنی توحید اور تفرید میں اکیلا ہے۔۳۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے اور تمام عیوب سے منزہ ہے اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔کوئی عیب نہیں جو اس میں پایا جاتا ہو اور کوئی خوبی نہیں جو اس میں پائی نہ جاتی ہو۔اس کی قدرت لا انتہاء ہے اُس کا علم غیر محدود اُس نے ہر ایک شے کا احاطہ کیا ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کا احاطہ کر سکے وہ اول ہے وہ آخر ہے وہ ظاہر ہے وہ باطن ہے وہ خالق ہے جمیع کا ئنات کا اور مالک ہے گل مخلوقات کا ، اس کا تصرف نہ کبھی پہلے باطل ہوا نہ اب باطل ہے نہ آئندہ باطل ہوگاؤ ہ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں، وہ قائم ہے اس پر کبھی زوال نہیں، اس کے تمام کام ارادے سے ہوتے ہیں نہ کہ اضطراری طور پر ، اب بھی