دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 397

دعوت الامیر — Page 127

(rz) دعوة الامير رہے ہیں۔علماء نے عجیب و غریب تو جیہیں کر کے بنکوں کے سود کے جواز کا فتویٰ دیدیا ہے اور یہ کہہ کر کہ کفار کے زیر حکومت ممالک میں سود لینا جائز ہے کسی قسم کے سود میں بھی روک نہیں رہنے دی اور آخری شریعت کے بعد ایک نئی شریعت کے بنانے کے مرتکب ہو گئے ہیں ان سب حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ سود کا حملہ اس زمانے میں ایسا سخت ہے کہ اس کا مقابلہ سوا ان کے جن کو خدا بچائے کوئی نہیں کر سکتا۔آخری زمانے کی مالی حالت کی ایک خصوصیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت مسیحی لوگ امیر ہوں گے اور دوسرے لوگ غریب ہوں گے چنانچہ ترمذی نے نواس بن سمعان کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دجال لوگوں سے کہے گا کہ مجھے مان لو جولوگ اس کا انکار کریں گے ان کے گھر کا سب مال دجال کے ساتھ ہی چلا جائے گا اور جو اس پر ایمان لائیں گے وہ خوب مالدار ہو جائیں گے وہ ان کے لئے آسمان سے برسوائے گا اور زمین سے اُگلوائے گا۔(ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فى فتنة الدجال) چنانچہ یہی حال اب ہے۔مسیحی اقوام دن رات مال و دولت میں ترقی کر رہی ہیں اور ان کی مخالف اقوام روز بروز غریب ہوتی جاتی ہیں اور برابر سو سال سے یہی صورت پیدا ہورہی ہے۔سیاسی حالت :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کی سیاسی حالت کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ اس کو پڑھ کر یہ موجودہ زمانہ خود بخو د سامنے آجاتا ہے مختلف سیاسی تغیرات جو