دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 397

دعوت الامیر — Page 112

(ur) دعوة الامير سلوک کیا کہ ایک اجنبی آدمی ان کو خادم ہی سمجھ سکتا ہے۔اب تو اس قسم کی ہزاروں مثالیں ہیں لیکن پہلے زمانوں میں اس قسم کی ایک مثال بھی ملنی مشکل۔علمی حالت :۔جس طرح مسیح موعود کے زمانے کی اخلاقی حالت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اسی طرح آپ نے اس زمانے کی علمی حالت بھی بیان فرمائی ہے، چنانچہ ترمذی میں انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے که اشراط ساعت میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ یزفَعُ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ (ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فی اشراط الساعة) علم اُٹھ جائے گا اور جہل ظاہر ہو جائے گا۔اسی مضمون کی روایت بخاری نے بھی بفرق قلیل انس سے بیان کی ہے۔( یر فع العلم و یکثر الجهل “ بخاری كتاب النکاح باب يقل الرجال و يكثر النساء) یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے۔ایک وہ وقت تھا کہ مسلمانوں کی عورتیں بھی فقیہ تھیں۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ انصار کی عورتیں بھی عمر سے زیادہ قرآن جانتی ہیں جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ بچہ بچہ قرآن کریم سے ایساواقف ہے کہ وہ بڑے بڑے عالم کے فتوے پر جرح کر سکتا ہے اور نادانی اور جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دلائل کی بناء پر۔حضرت عائشہ کے علم اور آپ کی ثقاہت کا کون انکار کر سکتا ہے مگر آج علم دین کا یہ حال ہے کہ ایسے لوگوں کے سوا جو دوسرے علوم سیکھنے کی قابلیت نہیں رکھتے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا اور جو علم صرف اس لئے پڑھا جائے کہ اس کے پڑھنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا بلکہ مفت میں روٹیاں مل جاتی ہیں اس میں کیا برکت ہوسکتی ہے اور اس نیت سے پڑھنے والے دنیا کوکیا نفع پہنچاسکتے ہیں۔