دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 397

دعوت الامیر — Page 82

۴۸۲ دعوة الامير ہاتھ میں میری جان ہے میرا دل چاہتا ہے کہ لکڑیاں اکٹھی کروں، پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں پھر اپنی جگہ کسی اور کو امام مقرر کروں پھر ان لوگوں کے گھروں پر جا کر جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے مکینوں سمیت مکانوں کو جلا دوں لیکن آج مسجد میں قدم رکھنا تو بڑی بات ہے عیدین کے سوا کروڑوں مسلمانوں کو نماز کی ہی فرصت نہیں ملتی اور ان میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو بلا شروط نماز کے پورا کرنے کے محض دکھاوے کے لئے نماز شروع کر دیتے ہیں اور وضو کے مسائل تک سے بھی واقف نہیں ہوتے۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام آج لا وارث ہورہا ہے، ہر ایک کا کوئی نہ کوئی وارث ہے اور اس کا کوئی وارث نہیں۔بالفاظ امام الزمان مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی حالت ان دنوں یہ ہے:۔ے سزد گر خوں ببارد دیدہ ہر اہل دی مسلمیں بر پریشاں حالی اسلام قحط ا و دین حق را گردش آمد صعبناک و سهمگیں سخت شورے اوفتاد اندر جہاں از کفر وکیں آنکه نفس اوست از هر خیر و خوبی بے نصیب می تراشد عیب با در ذات خير المرسلیں آنکه در زندان ناپاکی ست محبوس و اسیر هست در شان امام پاکبازان نکتہ چیں تیر بر معصوم می بارد خبیث بد گہر آسمان را می سزد گر سنگ بارد بر زمیں