دعوت الامیر — Page 81
دعوة الامير کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے ،مگر پھر بھی اپنی تھوڑی سی پونجی اور دولت پر اس قدر مغرور ہیں کہ دین سے ان کا کوئی سروکار ہی نہیں، دینی کاموں میں حصہ لینا تو درکنار، ان کے دلوں میں دین کا ادب تک باقی نہیں رہا۔یورپ کے امراء میں مسیحیت کے مبلغ مل سکتے ہیں مگر مسلمان امراء میں دین کے ابتدائی مسائل جاننے والے بھی بہت کم ملیں گے، حکام کا یہ حال ہے کہ رشوت ستانی اور ظلم ان کا شیوہ ہے ، وہ حکومت کو خدمت کا ایک ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ خدائی کا کوئی جزو خیال کرتے ہیں۔بادشاہ اپنی عیاشی میں مست ہیں اور وزراء غداری اور خیانت میں۔عوام الناس وحشیوں سے بدتر ہو رہے ہیں اور لاکھوں ہیں جو تر جمہ جانا تو الگ رہا کلمہ توحید اور کلمہ رسالت کے الفاظ تک منہ سے ادا نہیں کر سکتے۔وہ اسلام جو ایک اثر دھے کی طرح دیگر ادیان کو کھا تا جارہا تھا آج وہ مردہ کی طرح پڑا ہے اور کتے اور چیلیں اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، اپنے کاموں اور اپنی ضروریات کے لئے سب کو روپیل جاتا ہے مگر دین کی ضروریات اور اس کی اشاعت کے لئے ایک پیسہ نکالنا دو بھر ہے۔بیہودہ بکواس اور لطیفہ گوئیوں اور دوستوں کی مجالس مقرر کرنے کے لئے کافی وقت ہے مگر خدا کا کلام پڑھنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ایک منٹ کی بھی فرصت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز نہ پڑھنے والے کو نہیں ، جماعت میں نہ شریک ہونے والے کو نہیں بلکہ صرف عشاء اور صبح کی جماعت میں شریک نہ ہونے والے کو منافق قرار دیتے ہیں اور باوجو د رحم مجسم ہونے کے فرماتے ہیں کہ وَالَّذِی نَفْسِی بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَمْرَ بِحَطَبٍ فَيَحْطَبْ ثُمَّ أَمْرَ بِالصَّلٰوةِ فَيَؤَذَنَ لَهَا ثُمَّ أَمْرَ رَجُلا فَيَؤُمُ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأَحَزِقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ (بخاری کتاب الاذان باب وجوب صلوۃ الجماعة ) مجھے اسی خدا کی قسم جس کے