دعوت الامیر — Page 79
(<9) دعوة الامير دوسرے انبیاء تو خیر دور کے لوگ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کہیں زینب کی محبت کا قصہ اور کہیں چوری چوری ایک لونڈی سے تعلق کرنے کا واقعہ اور اس قسم کے اور بعید از اخلاق واقعات کو منسوب کر کے آپ کی کامل اور حامل اخلاق فاضلہ ذات کو بدشکل کر کے دکھایا جاتا ہے اور كَانَ خَلَقَهُ الْقُرْآنَ(مجمع البحار مؤلفه شیخ حمد طاھر جلد ۱ صفحہ ۳۷۲، مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ ۹۱) کی اس شہادت کو جو آپ کی سب سے زیادہ محرم راز (حضرت عائشہ) کی شہادت ہے، نظر انداز کیا جاتا ہے۔نسخ کا مسئلہ ایجاد کر کے اور قرآن کریم جیسی کامل کتاب میں اپنے دل سے اختلاف نکال کر اس کی بہت سی آیات کو بلا شارع کی نص کے منسوخ قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک فکر کرنے والے آدمی کے لئے اس کی کوئی آیت بھی قابل عمل اور قابل اعتبار باقی نہیں چھوڑی جاتی۔ایک وفات یافتہ موسوی نبی کو واپس لا کر امت محمدیہ کی نا قابلیت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے کسی کا اظہار کیا جاتا ہے۔یہ تو عقائد کا حال ہے، اعمال کی حالت بھی کچھ کم قابل افسوس نہیں۔پچھتر ۷۵ فی صدی نماز روزہ کے تارک ہیں، زکوۃ اول تو لوگ دیتے ہی نہیں اور جو دیتے ہیں ان میں سے جو اپنی خوشی سے دیتے ہوں وہ شاید سو میں سے دو نکلیں۔حج جن پر فرض ہے وہ اس کا نام نہیں لیتے اور جن کے لئے نہ صرف یہ کہ فرض نہیں بلکہ بعض حالات میں ناجائز ہے وہ اپنی رسوائی اور اسلام کی بدنامی کرتے ہوئے حج کے لئے جا پہنچتے ہیں اور جو تھوڑے بہت لوگ ان اعمال کو بجالاتے ہیں وہ اس طرح بجالاتے ہیں کہ بجائے ان احکام کی اصل غرض پوری ہونے کے ان کے لئے تو شاید وہ احکام موجب لعنت ہوتے ہوں گے، دوسروں کے لئے بھی باعث ذلت ہوتے ہیں، نماز کا ترجمہ تو عربی بولنے والے ملکوں کے سوا شاید ہی کوئی