دعوت الامیر — Page 78
دعوة الامير رہ سکتا کہ اس وقت مسلمان عملاً اور عقید تا اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں اور اگر کسی زمانے کے لوگوں کے حق میں یہ آیت لفظاً لفظاً صادق آسکتی ہے کہ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱) تو وہ اس زمانے کے لوگ ہیں۔آج یہ سوال نہیں رہا کہ لوگوں نے کونسی بات اسلام کی چھوڑی ہے بلکہ سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اسلام کی کونسی بات مسلمانوں میں باقی رہ گئی ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ”مسلمان در گورو مسلمانی در کتاب۔اسلام کا نشان صرف قرآن کریم اور احادیث صحیحہ اور کتب آئمہ میں ملتا ہے۔اس کا نشان لوگوں کی زندگیوں میں کہیں نہیں ملتا۔اول تو لوگ تعلیم اسلام سے واقف ہی نہیں اور اگر واقف ہونا بھی چاہیں تو ان کے لئے اسلام سے واقف ہونا قریباً ناممکن ہو گیا ہے کیونکہ اسلام کی ہر چیز ہی مسخ کر دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے متعلق ایسے عقائد تراشے گئے ہیں کہ جن کو تسلیم کر کے سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ (بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى وَنَضَعْ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ ليوم القيمة) زبان سے نکالنا ایک راستباز انسان کے لئے مشکل ہے۔ملائکہ کی نسبت ایسی باتیں بنائی گئی ہیں کہ الامان ! وہ ہستیاں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (سورۃ النحل: ۵۱) کہیں ان کو خدا پر اعتراض کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔کہیں انسانی بھیس میں اتار کر نا پاک عورتوں کا عاشق بنایا جاتا ہے۔نبیوں کی طرف جھوٹ اور گناہ کی نسبت کر کے ان کی ذات سے جو رشتہ محبت ہونا چاہئے ، اسے ایک ہی وار سے کاٹ دیا جاتا ہے اور کلام الہی کو شیطانی دست بُرد کا شکار بنا کر اسے بالکل ہی ساقط از اعتبار کر دیا جاتا ہے۔شراب اور جنت اور دوزخ کی وہ کیفیت بیان کی جاتی ہے کہ یا تو یہ عقائد شاعرانہ نازک خیالی بن جاتے ہیں یا پھر عجیب مضحکہ خیز کہانیاں ہو جاتے ہیں۔