دعوت الامیر — Page ix
ذ بسم الله الرحمن الرحيم دعْوَةُ الأمير یہ کتاب حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امیر امان اللہ خاں کے لئے اُس زمانے میں بطور اتمام حجت بصورت مکتوب تحریر فرمائی تھی جبکہ وہ فرمانروائے افغانستان تھے۔تا وہ بھی اس نعمت سے متمتع اور اس فائدے میں شریک ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے اس زمانے میں آسمان سے نازل فرمایا ہے۔یہ کتاب لا جواب اب سے پہلے سات بار شائع ہو چکی اور اب آٹھویں بار شائع کی جارہی ہے۔اس کتاب میں حضرت امیر المؤمنین نے عقائد جماعت احمد یہ بیان فرماتے ہوئے معاندین سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تمام چیده و مایہ ناز اعتراضات کے ایسے مُسکت اور تسلی بخش جوابات تحریر فرمائے ہیں جو حق پسند طالبانِ تحقیق کو مطمئن و مسرور اور معاندین کو مبہوت و مفرور بنادینے والے ہیں اور اس میں بانی جماعت احمدیہ کی صداقت پر بکثرت دلائلِ ساطعہ اور براہین قاطعہ کے ساتھ ایسے دلکش و دل نشین پیرایے میں بالتفصیل بحث فرمائی گئی ہے جو آپ ہی اپنی نظیر ہے اس لحاظ سے یہ کتاب احمد یہ لٹریچر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔اس کتاب مستطاب میں شہادت سرور انبیاء کے زیر عنوان مسیح موعود و مہدی مسعود کے زمانے کی اُن علامات کا ذکر بڑی تفصیل سے فرمایا گیا ہے جو آج سے قریباً چودہ ا۔اس سے قبل نویں بار 1929 ء میں شائع ہوئی تھی اب دسویں بار شائع ہو رہی ہے۔صفدر حسین عباسی