دعوت الامیر — Page 68
(YA) دعوة الامير علاوہ اس کے کہ یہ عقیدہ عقل سلیم کے خلاف ہے قرآن کریم بھی اس کو باطل کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يَؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَاداً لَىٰ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُوْنُوْا رَبَّانِيْنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُوْنَ o وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَخِذُوا الْمَلَئِكَةَ وَالنَّبِينَ أَرْبَاباً أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ (ال عمران : ۸۰-۸۱) یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کتاب اور حکم اور نبوت دیکر بھیجے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ بسبب اس کے کہ تم اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں کو سکھاتے اور پڑھتے ہو اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسا آدمی لوگوں سے یہ کہے کہ فرشتوں یا نبیوں کو رب سمجھ لو کیونکہ یہ مکن نہیں کہ وہ کوشش کر کے لوگوں کو مسلمان بنائے اور پھر ان کو کافر کر دے۔غرض اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ مدعی ماموریت فی الواقع سچا ہے یا نہیں ؟ اگر اس کی صداقت ثابت ہو جائے تو اس کے تمام دعاوی کی صداقت بھی ساتھ ہی ثابت ہو جاتی ہے اور اگر اس کی سچائی ہی ثابت نہ ہو تو اس کے متعلق تفصیلات میں پڑنا وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔پس میں اسی اصل کے مطابق آپ کے دعوے پر نظر کرنی چاہتا ہوں۔تاجناب والا کو ان دلائل سے مختصراً آگا ہی ہو جائے جن کی بناء پر آپ نے اس دعوے کو پیش کیا ہے اور جن پر نظر کرتے ہوئے لاکھوں آدمیوں نے آپکو اس وقت تک قبول کیا ہے۔