دعوت الامیر — Page 67
(12) دعوة الامي صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی مامور کی خبر دی گئی تھی تا اس کے ذریعے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہو کر تمام ادیان آپ کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں۔چنانچہ یہ سب پیشگوئیاں آپ کے وجود سے پوری ہو گئیں اور آپ مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے مسیح، زردشتیوں کے لئے مسیو در بھی اور ہندوؤں کے لئے کرشن کے مثیل ہو کر نازل ہوئے تا تمام اہلِ مذاہب پر انہیں کی کتب سے آپ کی صداقت ثابت ہو اور پھر آپ کے ذریعے سے اسلام کی صداقت معلوم ہو کر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں باندھے جائیں۔آپ کے دعوے کے دلائل آپ کے دعوے کو مختصر الفاظ میں بیان کر دینے کے بعد میں اصولاً اس امر کے متعلق کچھ بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک مامور من اللہ کے دعوے کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں اور پھر یہ کہ ان دلائل کے ذریعے سے آپ کے دعوے پر کیا روشنی پڑتی ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک شخص فی الواقع مامور من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے تو پھر اجمالاً اس کے تمام دعاوی پر ایمان لانا واجب ہو جاتا ہے کیونکہ عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کا مامور بھی ہو اور لوگوں کو دھوکا دیکر حق سے دُور بھی لے جاتا ہو ، اگر ایسا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک سخت حملہ ہوگا اور ثابت ہوگا کہ نَعُوذُ بِالله مِنْ ذلِکَ اس نے اپنے انتخاب میں سخت غلطی کی اور ایک ایسے شخص کو اپنا مامور بنا دیا جو دل کا نا پاک اور گندہ تھا اور بجائے حق اور صداقت کی اشاعت کے اپنی بڑائی اور عزت چاہتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے نفس کو مقدم کرتا تھا۔