دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 397

دعوت الامیر — Page 62

دعوة الامیہ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعْ وَصَلَوَاتْ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيراً وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ (الحج: ۴۰-۴۱) یعنی اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے بلا وجہ جنگ کی جاتی ہے جنگ کی اس لئے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے گھروں سے بلاقصور نکالے گئے ہیں۔ان کا کوئی قصور نہ تھا سوا اس کے کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالی بعض لوگوں کے ذریعہ سے بعض کا ہاتھ نہ روکتا تو مسیحیوں کے معبد اور راہبوں کے خلوت خانے اور یہود کی عبادت کی جگہیں اور مسجد میں جن میں اللہ تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے گرادی جاتیں اور اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ طاقتور ہے، غالب ہے۔یہ آیات کس قدر کھلے الفاظ میں بتاتی ہیں کہ مذہبی جنگیں تبھی جائز ہیں جبکہ کوئی قوم رَبُّنَا الله کہنے سے رو کے یعنی دین میں دخل دے اور ان کی غرض یہ نہیں کہ دوسری اقوام کے معابد ان کے ذریعہ سے گرائے جائیں اور ان سے ان کا مذہب چھڑ وایا جائے یا ان کو قتل کیا جائے بلکہ ان کی غرض یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے تمام مذاہب کی حفاظت کی جائے اور سب مذاہب کے معابد کو قائم رکھا جائے اور یہی غرض اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے کیونکہ اسلام دنیا میں بطور شاہد اور محافظ کے آیا ہے نہ کہ بطور جابر اور ظالم کے۔غرض جہاد جس کی اسلام نے اجازت دی ہے، یہ ہے کہ اس قوم کے خلاف جنگ کی جائے جو اسلام سے جبر آلوگوں کو پھیرے یا اس میں داخل ہونے سے جبر اباز رکھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام کے قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے، اس قوم کے سوا دوسری قوم سے جہاد نہیں ہوسکتا، اگر جنگ ہوگی تو صرف سیاسی اور ملکی جنگ ہوگی