دعوت الامیر — Page 48
(CA) دعوة الامير کھول دیئے ہیں اور آپ میں اور پہلے نبیوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے شاگر د تو محدثیت تک پہنچ سکتے تھے اور نبوت کا مقام پانے کے لئے ان کو الگ تربیت کی ضرورت ہوتی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں ایک انسان نبوت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور پھر بھی آپ کا امتی رہتا ہے اور جس قدر بھی ترقی کرے آپ کی غلامی سے باہر نہیں جا سکتا۔اس کے درجہ کی بلندی اسے اُمتی کہلانے سے آزاد نہیں کر دیتی بلکہ وہ اپنے درجہ کی بلندی کے مطابق آپ کے احسان کے بار کے نیچے دیتا جاتا ہے کیونکہ آپ قرب کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جس تک دوسروں کو رسائی نہیں ہوئی اور آپ نے اس قدر بلندی کو طے کر لیا ہے جس تک دوسروں کا ہاتھ بھی نہیں پہنچا اور آپ کی ترقی اس سرعت سے جاری ہے کہ واہمہ بھی اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔پس آپ کی اُمت نے بھی آپ کے قدم بڑھانے سے قدم بڑھایا ہے اور آپ کے ترقی فرمانے سے ترقی کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقام جو اوپر بیان ہوا ہے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس قسم کی نبوت کا سلسلہ آپ کے بعد جاری سمجھیں کیونکہ اس میں آپ کی عزت ہے اور اس کے بند کرنے میں آپ کی سخت ہتک ہے۔کون نہیں سمجھ سکتا کہ لائق استاد کی علامت یہ ہے کہ اس کے لائق شاگر دہوں اور بڑے بادشاہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے ماتحت بڑے بڑے حکمران ہوں۔اگر کسی استاد کے شاگر دادنیٰ درجے کے ہیں تو اسے کوئی لائق استاد نہیں کہ سکتا اور اگر کسی بادشاہ کے ماتحت ادنی درجے کے لوگ ہوں تو اسے کوئی بڑا بادشاہ نہیں ہ سکتا۔شہنشاہ دُنیا میں عزت کا لقب ہے نہ کہ ذلت اور حقارت کا۔اسی طرح وہ نبی ان نبیوں سے بڑا ہے جس کے اُمتی نبوت کا مقام پاتے ہیں اور پھر بھی امتی ہی رہتے ہیں۔در حقیقت یہ غلطی جس میں اس وقت کے مسلمان پڑ گئے ہیں ( اس وقت میں اس