دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 397

دعوت الامیر — Page 44

دعوة الامير مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ شیخ شہاب الدین صاحب سہروردی کے نزدیک ہر انسان کے لئے ایک ولادت معنوی ضروری ہے اور وہ اس کی تائید میں ایک تو قرآن کریم کی آیت پیش کرتے ہیں اور دوسرے حضرت مسیح کا ایک قول پیش کرتے ہیں۔پس جب ولادت معنوی ایک ضروری شے ہے اور حضرت مسیح اسے روحانی ترقی کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں تو کیا مثیل مسیح کے لئے ہی اس ولادت کا وجود محال اور ناممکن ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح کا دوبارہ زندہ ہو کر آنا اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے کلام کے خلاف ہے اور اس کے رسول کی عظمت کے منافی ہے اور اس کی باتوں کے صریح مخالف ہے اور جن باتوں پر اس عقیدے کی بناء رکھی گئی ہے وہ قلت تدبّر سے پیدا ہوئی ہیں اور کمی فکر کا نتیجہ ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ اسی امت میں سے ایک شخص کو مسیح کے رنگ میں رنگین ہو کر آنا تھا اور وہ آبھی چکا اور اس کے فیض سے بہتوں نے ہدایت پائی اور بہت گم گشتہ راہ سیدھے راستہ پر آگئے۔چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلہ وحی اور سلسلہ نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔یہ اعتراض بھی یا تو قلت تدبر کا نتیجہ ہے یا عداوت و دشمنی کا۔اصل بات یہ ہے کہ ہمیں تو الفاظ سے کوئی تعلق نہیں۔جس بات میں خدا اور اس کے رسول کی عزت ہو ہمیں تو وہی پسند ہے۔ہم کبھی ایک منٹ کے لئے بھی اس امر کو جائز نہیں سمجھتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آپ کی رسالت کو ختم کر دے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ بنائے اور نئی شریعت اپنے ساتھ لائے یا شریعت کا کوئی حکم بدل دے یا جو لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکال کر اپنی اطاعت میں لے آئے یا آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر ہو یا کچھ بھی فیض اس