دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 397

دعوت الامیر — Page 41

دعوة الامير نے تم پر ذکر یعنی رسول نازل کیا جو تمہیں اللہ کی کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تا کہ مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاوے۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور مسیح علیہ السلام کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس کے معنی اور کر دیئے جاتے ہیں اور مسیح کی نسبت اس کے اور معنی کر دیئے جاتے ہیں ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی زمین پر پیدا ہوئے اور آپ کی نسبت نزول کا لفظ استعمال کیا گیا تو کون سے تعجب کی بات ہے اگر یہی لفظ آنے والے مسیح کی نسبت استعمال کیا جائے اور اس سے مراد اس کی پیدائش اور بعثت ہو۔تیسرا شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ حدیثوں میں آنے والے کا نام عیسی ابن مریم رکھا گیا ہے پس اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہی بعینہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔لیکن یہ معترض خیال نہیں کرتے کہ کثرت سے ان کے شعروں میں عیسیٰ کا لفظ دوسرے لوگوں کی نسبت استعمال ہوتا ہے مگر اس کو یہ قابل اعتراض نہیں سمجھتے لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام میں اگر ایک شخص کا نام بھی عیسی رکھ دیا گیا تو اس پر تعجب آتا ہے۔پھر روزانہ بھی لوگوں کی نسبت حاتم طائی اور فلسفیانہ دماغ رکھنے والوں کی نسبت محقق طوسی اور استخراج مسائل کا مادہ رکھنے والوں کی نسبت فخر رازی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔مگر ابن مریم کے الفاظ ان کے دلوں میں شبہات پیدا کر دیتے ہیں۔اگر ابن مریم کے الفاظ تعیین کے معنی دیتے ہیں تو کیا طائی اور طوسی اور رازی تعیین کے معنی نہیں دیتے ، پھر اگر باوجود ان الفاظ کے استعمال کے ان کی یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ شخص فی الواقع طے کے قبیلے کا ایک فرد ہے یا طوس یارے کا رہنے والا ہے تو ابن مریم کے الفاظ سے کیوں یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آنے والا عیسی ابن مریم نبی اللہ ہو گا جو آج