دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 397

دعوت الامیر — Page 38

(FA) دعوة الامير کا دعوی کرے گا، اس طرح گویا اُس کے دو مختلف عہدوں کے اظہار کا وقت بیان کیا گیا ہے۔یعنی پہلے عام دعوی اصلاح ہوگا اور پھر دعوی مسیحیت ہوگا اور پیشگوئیوں میں اس قسم کا کلام عام ہوتا ہے بلکہ اگر اس قسم کے استعارے پیشگوئیوں سے علیحدہ کر دیئے جائیں تو ان کا سمجھنا ہی بالکل ناممکن ہو جائے۔اگر یہ معنی ان احادیث کے نہ کئے جائیں تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گی اور وہ دونوں ہی خطرناک ہیں۔یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لَا الْمَهْدِى الَّا عِيسَی والی حديث باطل ہے اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ مہدی کا کوئی الگ وجود نہیں بلکہ مسیح اور مہدی کے درجات کا مقابلہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اصل مہدی تو مسیح ہی ہوں گے دوسرا مہدی تو اُن کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جس طرح کہہ دیتے ہیں کہ لا عَالِم الافلان اور اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے سوا کوئی عالم ہی نہیں، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے علم میں دوسروں سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ان کا علم حقیر ہو جاتا ہے اور یہ دونوں معنی خطرناک نتائج پیدا کرنے والے ہیں کیونکہ ایک حدیث کو بلا وجہ باطل کر دینا بھی خطرناک ہے اور خصوصاً ایسی حدیث کو جو اپنے ساتھ شواہد بھی رکھتی ہے اور یہ کہنا کہ مہدی مسیح کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہ رکھیں گے ان احادیث کے مضامین کے خلاف ہے جن میں انہیں امام قرار دیا گیا ہے اور مسیح کو ان کا مقتدی۔غرض سوائے ان معنوں کے کہ امت محمدیہ میں ایک ایسے وجود کی خبر دی گئی ہے جو پہلے مصلح ہونے کا دعوی کرے گا اور بعد کو مسیح موعود ہونے کا ، ان احادیث کے اور کوئی معنی نہیں بن سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے سار ادھو کا اس امر سے کھایا ہے کہ حدیث میں