دعوت الامیر — Page 32
(rr) دعوة الامير ذریعے سے گم گشتگان راہ کو اپنی طرف بلائے اور جولوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا بلکہ ضرورت کے موقع پر کسی پچھلے نبی کو لائے گا غلطی پر ہیں۔وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ۔(الزمر: ۶۸) علاوہ اس امر کے مسیح ناصری کے دوبارہ واپس آنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حرف آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر بھی حرف آتا ہے کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو ہی دوبارہ دنیا میں واپس آنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی تمام امتیں جب بگڑتی تھیں تو اُن کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں میں سے ایک شخص کو کھڑا کر دیتا تھا، مگر ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں جب فساد پڑیگا تو اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء میں سے ایک نبی کو واپس لائے گا خود آپ کی اُمت میں سے کوئی فرد اس کی اصلاح کی طاقت نہیں رکھے گا۔اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں تو ہم یقیناً سیحیوں اور یہودیوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں کم نہ ہوں گے کیونکہ وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر معترض ہیں اور اس عقیدے کے ساتھ ہم بھی آپ کی قوت قدسیہ پر معترض ہو جاتے ہیں۔جب چراغ جل رہا ہو تو اس سے اور چراغ یقینا روشن ہو سکتے ہیں ، وہ بجھا ہوا چراغ ہوتا ہے جس سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی زمانہ ایسا بھی آتا ہے کہ اس کی حالت ایسی بگڑ جائے گی کہ اس میں سے کوئی شخص اس کی اصلاح کے لئے کھڑا نہیں ہو سکے گا تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان بھی نعوذ بالله من ذالک ختم ہو جائے گا، کون مسلمان اس بات کو نہیں جانتا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو حضرت موسی کا سلسلہ چلا نا منظور تھا اس وقت تک آپ ہی کے اتباع میں سے ایسے لوگ