دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 397

دعوت الامیر — Page 384

(rar) ۳۸۴ زمانے کے آخر تک آپ کے نام پر رحمتیں بھیجنے والے موجود رہیں۔دعوة الامير بیشک اللہ تعالیٰ کے سلسلوں میں داخل ہونے والے انسان بڑے بوجھ کے نیچے دب جاتے ہیں مگر ہر ایک بوجھ تکلیف نہیں دیتا۔کیا وہ کسان جو اپنی سال بھر کی کمائی سر پر رکھ کر اپنے گھر لاتا ہے بوجھ محسوس کرتا ہے یا وہ ماں جو اپنا بچہ گود میں اُٹھائے پھرتی ہے بوجھ محسوس کرتی ہے؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں حصہ لینا اور اُس کے لیے کوشش کرنا مومن کے لیے بوجھ نہیں ہوتا۔دوسرے اسے بوجھ سمجھتے ہیں مگر وہ اسے عین راحت خیال کرتا ہے۔پس ان ذمہ داریوں سے نہ گھبرائیے جوحق کو قبول کرنے سے انسان پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنایتوں کو سوچتے ہوئے اس بوجھ کے نیچے اپنا کندھا دے دیجئے جس کا اُٹھانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔آپ بادشاہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور آپ اور دوسرے انسان برابر ہیں۔جس طرح اُن پر خدمت اسلام کا فرض ہے آپ پر بھی فرض ہے اور جس طرح اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ماموروں کا ماننا ضروری ہے آپ کے لیے بھی ضروری ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے حکموں اور اس کی تعلیموں کو قبول کیجئے۔اور اس کے قائم کردہ سلسلے میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ لیجئے کہ ان میں سب سے چھوٹا آپ کی ساری مملکت سے بڑا اور زیادہ قیمتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَلَيْسَ مِنَّا _ (مجمع الذوائد ومنبع الفوائد مؤلفه حافظ نور الدین علی بن ابی بکر جلد ۵ صفحه ۲۴۴ مطبوعه قاهره ۱۳۵۳ھ میں اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔” من فارق الجماعة شبر أفقد فارق الاسلام‘) پس اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت سے جدا رہنا نہایت خوف کا مقام ہے اور خصوصاً بادشاہوں