دعوت الامیر — Page 385
۳۸۵ دعوة الامير کے لیے کہ اُن پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ایک ان کی اپنی اور ایک اُن کی رعایا کی۔بہت سے نادان دین کے معاملے میں بھی اپنے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُن کی غلطیوں کے ذمہ دار اُن کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا تھا تو آپ نے اُس کو اسی امر کی طرف تو جہ دلا کر حق کو جلد قبول کرنے کی ترغیب دی تھی اور تحریر فرمایا تھا کہ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيْسِنینَ ( مسند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحہ ۲۶۳) کہ اگر تُو نے انکار کر دیا تو تجھ پر زمینداروں کا گناہ بھی ہوگا۔پس آپ حق کو قبول کر کے اپنی رعایا کے راستے سے وہ روک ہٹا دیں جو آب آپ کے راستے میں حائل ہے تا کہ اس کے گناہ آپ کو نہ دیئے جائیں بلکہ ان کی نیکیاں آپ کو ملیں کیونکہ جس طرح وہ بادشاہ جو حق کا انکار کر کے دوسروں کے لیے روک بنتا ہے اُن کے گناہوں میں شریک قرار دیا جاتا ہے۔اسی طرح وہ بادشاہ جو حق کو قبول کر کے دوسروں کے لیے حق کے قبول کرنے کا راستہ کھولتا ہے اُن کے ثواب میں شریک کیا جاتا ہے۔یہ دنیا چند روزہ ہے اور نہ معلوم کہ کون کب تک زندہ رہے گا آخر ہر ایک کومرنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔اس وقت سوائے صحیح عقائد اور صالح اعمال کے اور کچھ کام نہیں آئے گا۔غریب بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے اور امیر بھی۔نہ بادشاہ اب تک اس دنیا سے کچھ لے گئے نہ غریب، ساتھ لے جانے والا صرف ایمان ہے یا اعمال صالحہ۔پس اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان لائے تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو امن دیا جائے اور اسلام کی آواز کو قبول کیجئے تا سلامتی سے آپ کو حصہ ملے۔میں آج اس فرض کو ادا کر چکا جو مجھ پر تھا۔اللہ تعالیٰ کا پیغام میں نے آپکو پہنچا دیا ہے۔آب ماننانہ ماننا آپ کا