دعوت الامیر — Page 376
(24) دعوة الامير ساتھ عمر بھر ایسا معاملہ کیا جو وہ اپنے رسولوں اور پیاروں سے کرتا ہے۔ہر میدان میں آپ کو فتح دی اور ہر شر سے آپ کو بچایا۔آپ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو ماموروں اور مرسلوں کے دشمنوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے، قانونِ قدرت تک کو اُس نے آپ کی خدمت میں اور زمین و آسمان کو آپ کی تائید میں لگا دیا۔علوم قرآنیہ کے دروازے آپ پر کھول دیئے اور علوم قرآنیہ کی اشاعت کے ذرائع آپ کے لیے مہتا کر دیئے حتی کہ آپ نے اُن لوگوں کو جو علم و فضل کی کان سمجھے جاتے تھے اپنے مقابلہ کے لیے بلا یا مگر کوئی آپ کے مقابلہ پر نہ آسکا اور معجزانہ طور پر آپ کا کلام غالب رہا اور لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) کے وعدہ الہی نے آپ کی صداقت پر گواہی دی۔پھر آپ پر غیب کا دروازہ کھولا گیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہزاروں امور غیبیہ پر اطلاع دی جو اپنے وقت پر پورے ہو کر جلال الہیہ کو ظاہر کرنے کا موجب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ امور غیبیہ پر کثرت سے سوائے اپنے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرما تا، آپ نے اپنی تمام عمر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں صرف کر دی اور ایسے شخص اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکارے نہیں جاتے۔آپ نے ایک پاک اور کارکن جماعت پیدا کر دی ہے جس میں سے ایک گروہ ایسا ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے اور جو دوسرے لوگوں کو زندہ کرنے اور روحانی امور کے کھولنے کی قابلیت رکھتا ہے۔دین پر فدا ہے اور دنیاوی علائق سے جدا۔اسلام کا غمخوار ہے اور ماسواء سے بیزار۔پس باوجود ان سب شواہد کے آپ کے دعوی کو قبول نہ کرنا اور آپ پر ایمان نہ لانا کسی طرح درست اور اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں ہوسکتا اور در حقیقت وہ شخص جو اسلام سے محبت رکھتا ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہو اور اپنے ذاتی مفاد پر اسلام کے فوائد کو مقدم رکھتا ہو اس