دعوت الامیر — Page 359
(roa) دعوة الامير سے خراج تحسین وصول کئے بغیر نہ رہی اور بڑے بڑے علماء نے اس کتاب کے متعلق رائے ظاہر کی کہ یہ کتاب تیرہ سو سال کے عرصے میں اپنی نظیر آپ ہی ہے۔اسلام کے بہترین ایام کے اکابر مصنفین کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تعریف اپنے مطلب کی آپ ہی تشریح کرتی ہے اس کے علاوہ جو بھی رسالہ یا اخبار نکلتا آپ اس میں اسلام کی عظمت اور اُس کی حقیقت کو ظاہر کرتے اور دشمنانِ اسلام کے حملوں کا جواب دیتے۔حتی کہ سب اقوام آپ کی دشمن ہوگئیں مگر آپ نے ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی۔یہ وہ زمانہ تھا کہ ایک طرف تو مسیحی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے رہے تھے اور دسری طرف آریہ گندہ دہنی سے کام لے رہے تھے لیکن ہندوستان کے علماء ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے شائع کر رہے تھے اسلام پامال ہورہا تھا مگر علماء کو رفع یدین اور ہاتھ سینے پر باندھیں یا ناف پر۔آمین بالجہر کہیں یا آہستہ، یا اسی قسم کے اور مسائل سے فرصت نہ تھی۔اس وقت آپ ہی ایک شخص تھے جو اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر تھے اور مسلمانوں میں اعمالِ صالحہ کے رواج دینے کی طرف متوجہ تھے آپ اس بحث میں نہ پڑتے کہ حنفیوں کا استدلال درست ہے یا اہلِ حدیث کا۔بلکہ اس امر پر زور دیتے کہ جس امر کو بھی سچا سمجھو اس پر عمل کر کے دکھاؤ اور بے دینی اور اباحت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل شروع کر دو۔پنڈت دیانند بائی آریہ سماج سے آپ نے مقابلہ کیا۔لیکھرام ، جیون داس، مرلی دھر، اندر من غرض جس قدر آریہ مذہب کے لیڈر تھے ان میں سے ایک ایک سے آپ بحث کی طرح ڈالتے اور اس وقت تک اس کا پیچھا نہ چھوڑتے جب تک وہ اسلام پر حملہ کرنے سے باز نہ آجاتا یا ہلاک نہ ہو جاتا۔اسی طرح مسیحیوں کے مخش گومنادوں کا آپ مقابلہ کرتے کبھی فتح مسیح سے کبھی آتھم سے کبھی مارٹن سے کبھی ہاول