دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 397

دعوت الامیر — Page 341

۳۴۱ دعوة الامير لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کر دی جو دین سے چنداں تعلق نہیں رکھتے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے سامان بہم پہنچا دیا، مگر اس کتاب کے چار حصے ہی ابھی شائع ہوئے تھے کہ اخراجات اور بھی بڑھ گئے۔کیونکہ جس طرف سے آپ حملے کا رخ پھیرنا چاہتے تھے اُدھر سے رُخ پھر گیا ، مگر خود آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا ہوگیا اور کیا ہندو اور کیا مسیحی اور کیا سکھ صاحبان سب مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور آپ کے الہامات پر تمسخر شروع کر دیا۔اُن کی غرض تو یہ تھی کہ ان الہامات کی عظمت کو صدمہ پہنچے تو وہ اثر جو آپ کی کتابوں سے لوگوں کے دلوں پر پڑا ہے زائل ہو جائے اور اسلام کے مقابلے پر اُن کو شکست نصیب نہ ہو، مگر مسلمانوں میں سے بھی بعض حاسد آپ کی مخالفت پر کھڑے ہو گئے اور گویا ایک ہی وقت میں چاروں طرف سے حملہ شروع ہو گیا اور اس بات کا آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس شخص پر اپنے اور بیگانے حملہ آور ہو جائیں اس کے لیے کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔پس لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینے اور اسلام کی شان کو قائم رکھنے کے لیے کثیر مال کی ضرورت پیش آئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی سامان پیدا کر دیا۔اس کے بعد تیسرا تغیر شروع ہوا یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ ہی مسیح موعود ہیں اور پہلے مسیح فوت ہو چکے ہیں اس دعوے پر وہ لوگ بھی جو اس وقت تک آپ کے ساتھ تھے جُدا ہو گئے اور کل چالیس آدمیوں نے آپ کی بیعت کی۔اس وقت گو یا عملاً ساری دنیا سے جنگ شروع ہوگئی اور جو لوگ پہلے مددگار تھے انہوں نے بھی مخالفت میں اپناز ورخرچ کرنا شروع کر دیا۔اب تو اخراجات اندازے سے زیادہ بڑھنے شروع ہو گئے ایک تو مخالفوں کے اعتراضات کے جواب شائع کرنا دوسرے اپنے دعوی کولوگوں کے سامنے پیش کرنا اور اس کے دلائل دینا۔تیسرے چھوٹے چھوٹے اشتہارات تقسیم کرنا تا کہ تمام ملک کو