دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 397

دعوت الامیر — Page 340

(rr۔) دعوة الامير چلا جائے گا اس خیال کا آنا تھا کہ فوراً دوسرا الہام ہوا جو ایک بڑی پیشگوئی پر مشتمل تھا اور اس کے الفاظ یہ تھے کہ اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ( تذکرہ صفحہ ۲۵۔ایڈیشن چہارم ) کیا خدا تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہ ہوگا۔اس الہام میں چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے تکفل اور آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کا وعدہ تھا۔آپ نے کئی ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی تا وہ اس کے گواہ رہیں اور ایک ہند و صاحب کو جواب تک زندہ ہیں امرتسر بھیج کر اس الہام کی مہر کندہ کروائی۔اس طرح سینکڑوں آدمی اس الہام سے واقف ہو گئے اس الہام کی حقیقت کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ آپ کے خاندان میں کچھ تنازعات ہو گئے اور ان کی وجہ سے آپ کی جائیداد کے متعلق خاندان ہی میں سے بہت سے دعوے دار کھڑے ہو گئے آپ کے بڑے بھائی جائیداد کے منتظم تھے۔ان کا رشتہ داروں سے کچھ اختلاف ہو گیا۔آپ نے ان کو مشورہ دیا کہ اُن سے حُسنِ سلوک کرنا چاہئیے مگر انہوں نے آپ کے مشورہ کو قبول نہ کیا۔آخر عدالت تک نوبت پہنچی اور انہوں نے آپ سے دعا کے لیے کہا آپ نے دُعا کی تو معلوم ہوا کہ شرکا جیتیں گے اور آپ کے بھائی صاحب باریں گے۔آخر اسی طرح ہوا۔جائیداد کا دو تہائی سے زائد حصہ شرکاء کو دیا گیا اور آپ کے بھائی صاحب اور آپ کے حصے میں نہایت قلیل حصہ آیا۔گو یہ جائیداد جو آپ کے حصہ میں آئی آپ کی ضروریات کے لئے تو کافی تھی مگر جو کام آپ کرنے والے تھے اس کے لیے یہ آمدن کافی نہ تھی۔اس وقت اسلام کی اشاعت کے لیے اس عظیم الشان کتاب کی تیاری میں مشغول تھے جس کا نام براہین احمدیہ ہے اور جس کے لیے مقد رتھا کہ مذہبی دنیا میں ہل چل مچادے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے ایک رقم کثیر کی ضرورت تھی۔اس نا اُمیدی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اُمید کے دروازے کھول دیئے اور ایسے