دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 397

دعوت الامیر — Page 338

(Fra) دعوة الامير ہو گئے ہیں اور ہزاروں کا سودا انسان جس وقت چاہے خرید سکتا ہے۔ایک پرائمری سکول کی بجائے دو ہائی سکول بن گئے ہیں جن میں سے ایک ہندوؤں کا سکول ہے۔ایک گرل سکول ہے اور ایک علوم دینیہ کا کالج ہے۔ڈاک خانہ جس میں ایک ہفتے میں دو دفعہ ڈاک آتی تھی اور سکول کا مدرس الاؤنس لیکر اس کا کام کر دیا کرتا تھا۔اب اس میں سات آٹھ آدمی سارا دن کام کرتے ہیں۔تب جا کر کام ختم ہوتا ہے۔اور تار کا انتظام ہورہا ہے ایک ہفتے میں دوبار نکلنے والا اخبار شائع ہوتا ہے۔دو ہفت وار اُردو اور ایک ہفتے وار انگریزی اخبار شائع ہوتے ہیں ایک پندرہ روزہ اخبار شائع ہوتا ہے اور دو ماہوار رسالے شائع ہوتے ہیں۔پانچ پریس جاری ہیں جن میں سے ایک مشین پریس ہے بہت سی کتب ہر سال شائع ہوتی ہیں۔بڑے بڑے شہروں کی ڈاک اِدھر اُدھر ہو جائے تو ہو جائے مگر قادیان کا نام لکھ کر خط ڈالیں تو سیدھا یہیں پہنچتا ہے غرض نہایت مخالف حالات میں قادیان نے وہ ترقی کی ہے جس کی مثال دنیا کے پردے پر کسی جگہ بھی نہیں مل سکتی اقتصادی طور پر شہروں کی ترقیات کے لیے جو اصول مقرر ہیں ان سب کے علی الرغم اس نے ترقی حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے کلام کی صداقت ظاہر کی ہے جس سے وہ لوگ جو قادیان کی پہلی حالت اور اس کے مقام کو جانتے ہیں خواہ وہ غیر مذاہب کے ہی کیوں نہ ہوں اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بیشک یہ غیر معمولی اتفاق ہے۔مگر افسوس لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا سب غیر معمولی اتفاق مرزا صاحب ہی کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے تھے۔