دعوت الامیر — Page 335
۳۳۵ دسویں پیشگوئی قادیان کی ترقی کا نشان دعوة الامير اس وقت تک تو میں نے وہ نشان بیان کئے ہیں جو یا تو صرف انذار کا پہلو رکھتے تھے۔یا دونوں پہلوؤں پر مشتمل تھے اب میں تین ایسے نشان بیان کرتا ہوں جو خالص تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں یہ تین مثالیں جو میں بیان کروں گا یہ بھی ایسی ہی ہیں کہ بوجہ اپنی عمومیت کے دوست اور دشمن میں شائع ہیں اور ہر مذہب وملت کے لوگوں میں سے اس کے گواہ مل سکتے ہیں اور اس وقت سے کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ، حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب اور ڈائریوں میں شائع ہوتی چلی آئی ہیں۔سب سے پہلے میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسے کہ بمبئی اور کلکتہ کے شہر ہیں۔گویا نو دس لاکھ کی آبادی تک پہنچ جائے گا اور اس کی آبادی شمالاً اور شرقاً پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی۔( تذکرہ صفحہ ۷۸۲۔ایڈیشن چہارم ) جو قادیان سے نومیل کے فاصلے پر بہنے والے ایک دریا کا نام ہے۔یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی ہے اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی سوائے چند ایک پختہ مکان کے باقی سب مکانات کچے تھے مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرایہ پر مل جاتا تھا۔مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی که دس بارہ روپئے کو قابل سکونت مکان بنانے کے لئے زمین مل جاتی تھی۔بازار کا یہ حال