دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 397

دعوت الامیر — Page 325

(rro) دعوة الامير میں گھر گئے اور بعض ہزاروں میل کا چکر لگا کر گھروں کو پہنچے اور جنگ کے درمیان بھی بہت دفعہ فوجی سپاہیوں کو بعض ناکوں کے دشمن کے قبضے میں چلے جانے کی وجہ سے سینکڑوں میل کا سفر کر کے جانا پڑتا تھا اور انگریز سپاہی بوجہ فرانس میں مسافر ہونے کے راستہ بھول جاتے تھے۔چنانچہ اس قسم کے حوادث کی کثرت کی وجہ سے آخر فرانسیسی زبان میں ان کی رجمنٹوں وغیرہ کے نام تختیوں پر لکھ کر ان کے گلوں میں لٹکائے گئے ، تا کہ جہاں جائیں وہ تختیاں دکھا کر منزل مقصود پر پہنچ سکیں۔ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ یورپ جو کچھ عمارات تیار کر رہا ہے وہ مٹادی جائیں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس جنگ نے علاوہ ظاہری عمارتوں کے گرانے کے یورپین تمدن کی بنیادوں کو بھی ہلا دیا ہے اور اب وہ اس جال میں سے نکلنے کے لیے سخت ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جو خود اس کے ہاتھوں نے تیار کیا تھا مگر کامیاب نہیں ہوتا اور یقیناً دنیا دیکھ لے گی کہ جنگ سے پہلے کا یورپین تمدن اب کامیاب نہیں رہے گا بلکہ اس کی جگہ ایسے طریق اور ایسی رسومات لے لیں گی کہ آخر اسے اسلام کی طرف توجہ کرنی پڑے گی اور یہ خدا کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے کوئی اس امر کو روک نہیں سکتا۔ایک علامت یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کو جو تکلیف پہنچ رہی تھی اس سے وہ بچالیئے جائیں گے۔چنانچہ یہ بات بھی نہایت وضاحت کے ساتھ پوری ہوئی، اسی جنگ کے دوران میں اور اسی جنگ کے باعث سے مسٹر بلفور (Balfour, Arthur James ( ۱۸۴۸ - ۱۹۳۰ ء ) مشہور برطانوی سیاستدان۔متعدد عہدوں پر فائز رہا۔برٹش کنز رو نیٹو پارٹی میں ۵۰ سال تک اپنی پوزیشن برقرار رکھی ۱۹۰۲ء تا ۱۹۰۵ وزیر اعظم رہا۔اس نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اعلان بالفور (۱۹۱۷ء) کے ذریعہ فلسطین کو یہود