دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 397

دعوت الامیر — Page 323

<rrr) دعوة الامير بیگم کے قتل کی مصیبت اس جنگ کے چھڑنے کا باعث ہوئی نہ کہ ڈول کے سیاسی اختلافات۔دوسری بات اس پیشگوئی میں یہ بتائی گئی تھی کہ اس آفت عظیمہ کا اثر ساری دنیا پر ہوگا چنانچہ یہ بات نہایت روز روشن کی طرح پوری ہوئی۔اس سے پہلے ایک بھی مصیبت ایسی نہیں آئی جس کا اثر اس وسعت کے ساتھ ساری دنیا پر پڑا ہو، یورپ تو خود اس جنگ کا مرکز ہی تھا، ایشا بھی اس میں ملوث ہوا ، چین میں جنگ ہوئی ، جاپان جنگ میں شریک ہوا، ہندوستان اس جنگ میں شامل ہوا اور جرمن جہاز نے ہندوستانی ساحلوں پر حملہ کیا ، ایران میں انگریزی فوجوں کی ترکوں سے جنگ ہوئی اور جرمن قفصل کے ساتھ ایرانیوں کا فساد ہوا، عراق، شام، فلسطین، سائبیریا میں جنگ ہوئی، افریقہ میں بھی چاروں کونوں پر جنگ ہوئی، جنوبی علاقے میں ساؤتھ افریقہ کی حکومت نے جرمن ویسٹ افریقہ پر حملہ کیا اور خود جنوبی افریقہ میں بغاوت ہوئی ،مشرقی افریقہ میں جرمن نو آبادی میں جنگ ہوئی مغربی ساحل پر کیمران میں جنگ ہوئی ، مغربی ساحل پر نہر سویز اور مصر کی سرحد ملحقہ طرابلس پر جنگ ہوئی ، آسٹریلیشیا کے علاقے میں جرمن جہاز نے حملہ کیا اور آخر پکڑا گیا اور نیو گائنا میں جنگ ہوئی ، امریکہ کے ساحل پر انگریزی اور جرمن بیڑوں میں جنگ ہوئی اور کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ جنگ میں شامل ہوئیں اور جنوبی امریکہ کی مختلف ریاستوں نے بھی جرمن کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ، غرض دنیا کا کوئی علاقہ نہیں جو اس جنگ کے اثر سے محفوظ رہا ہو۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ پہاڑ اور شہر اُڑائے جائیں گے اور کھیت برباد ہوں گےسوایسا ہی ہوا۔بیسیوں پہاڑیاں کثرت گولہ باری اور سرنگوں کے لگانے سے بالکل مٹ گئیں اور بہت سے شہر برباد ہو گئے حتی کہ اربوں روپیہ جرمن کو ان کی دوبارہ آبادی کے لیے دینا پڑا ہے اور اب تک اس غرض کے لیے وہ تاوان ادا کر رہا ہے اور کھیتوں اور باغوں