دعوت الامیر — Page 322
۳۲۲ دعوة الامير کے مصالح کے خلاف ہے اور وہ بھی اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھائیں گے (۹) الہامات میں بتایا گیا ہے کہ اُس دن بادشاہت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہوگی، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومتیں کمزور ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اپنی حکومت زور دار نشانوں سے قائم کرے گا (۱۰) ایک الہام یہ ہے کہ پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا اور یہ بات بچے تک جانتے ہیں کہ طبعی زلازل پہاڑ گرنے کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتے بلکہ زلزلوں کے سبب سے پہاڑ گرتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ پہاڑ گر نے اور زلزلہ آنے سے طبعی زلزلہ مراد نہیں بلکہ استعارہ کچھ اور مراد ہے اور وہ یہی کہ کوئی بڑی مصیبت آئے گی۔جس کے نتیجے میں دنیا میں زلزلہ آئے گا اور لوگ ایک دوسرے سے جنگ کرنے لگیں گے۔(۴) چوتھا ثبوت اس بات کا کہ زلزلے سے مراد کوئی اور آفت تھی یہ ہے کہ انہیں دنوں کے دوسرے الہامات بھی ایک جنگ عظیم کی طرف اشارہ کرتے تھے جیسے یہ الہام کہ لنگر اٹھا دو۔یعنی ہر قوم اپنے بیڑوں کو حکم دے گی کہ وہ ہر وقت سمندر میں جانے کے لیے تیار ر ہیں اور اسی طرح یہ الہام کہ کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں گشتیاں یعنی کثرت سے جہاز ادھر سے اُدھر اور ادھر سے ادھر پھریں گے اور بحری جنگ کا موقعہ تلاش کریں گے۔یہ بات ثابت کر دینے کے بعد کہ اس پیشگوئی میں زلزلے سے مراد جنگ عظیم ہے جو پچھلے دنوں ہوئی ہے اب میں اس پیشگوئی کے مختلف اجزاء کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کس طرح پورے ہوئے سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ کوئی مصیبت نازل ہوگی اور اس کے نتیجے میں تمام دنیا پر زلزلہ آئے گا چنانچہ اسی طرح اس جنگ کی ابتداء ہوئی۔آسٹریا، ہنگری کے شہزادے اور