دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 397

دعوت الامیر — Page 321

۳۲۱ دعوة الامير بات پائی جاتی ہے کہ بوجہ رات اور دن کی گولہ باری اور درختوں کے کٹ جانے کے جانور ایسے علاقوں میں سے قریباً مفقود ہو جاتے ہیں اور اُن کے حواس اُڑ جاتے ہیں(۵) زلزلے کے الہامات میں ایک فقرہ كَفَفْتُ عَنْ بَنِی اسرائیل ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ میں نے بنی اسرائیل کو شر سے بچالیا۔ظاہری زلزلے سے اس امر کا کوئی تعلق نہیں۔اس لیے ان الہامات سے کوئی ایسا ہی واقعہ مراد تھا جس سے بنی اسرائیل کو فائدہ پہنچے گا اور یہ میں آگے بیان کروں گا کہ یہ بھی جنگ عظیم کی علامت تھی جو پوری ہوئی۔میں یہ بھی بتاؤں گا کہ اس پیشگوئی کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے (۶) الفاظ الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہے۔کیونکہ زلزلے کے الہامات میں تبایا گیا ہے کہ فرعون و ہامان اور ان کے لشکر غلطی پر تھے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قیصر کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا قائمقام بتاتا تھا۔جس طرح فرعون اپنی نسبت کہتا تھا کہ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (التنزعت: ۲۵) اور اس کا وزیر شاہ آسٹریا مراد ہے جو اپنی ہستی کوئی نہیں رکھتا تھا بلکہ جرمن وار لارڈ کے حکم اور اشارے پر چلتا تھا ، اگر زلزلے سے ظاہری زلزلہ مراد لیں تو إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ کے معنے کرنے مشکل ہو جاتے ہیں۔(۷) زلزلے کے ان الہاموں کے ساتھ انِّی مَعَ الْأَفْوَاجِ أَتِيَكَ بَغْتَةً کا الہام بھی بار بار ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگ ہی کی طرف اشارہ ہے۔(۸) الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں پہاڑ پھوٹے گا، اور اس کے ساتھ عرب کی مصلحتیں وابستہ ی ہوں گی اور وہ گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور یہ مضمون ظاہری زلزلے پر ہرگز چسپاں نہیں ہوسکتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آتش فشاں سے مراد وہ طبائع کا مخفی جوش ہے جو کسی واقعہ کی وجہ سے اُبل پڑے گا اور اس وقت عرب بھی دیکھیں گے کہ خاموش رہنا ان