دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 397

دعوت الامیر — Page 315

۳۱۵ دعوة الامير کثرت سے عارضی سکونت کی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور جیسا کہ ظاہر ہے ایسی عمارتیں چھاؤنیوں، سیر گاہوں اور زیارت گاہوں میں ہی زیادہ ہوتی ہیں۔پس ایسے ہی مقامات میں سے کسی ایک میں زلزلے کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔ان الہامات کے شائع کرنے کے ایک عرصہ بعد جبکہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا، کانگڑے کی خاموش آتش فشاں پہاڑی جنبش میں آئی اور ۱/۴ پریل ۱۹۰۵ ء کی صبح کے وقت جبکہ لوگ نمازوں سے فارغ ہوئے ہی تھے اس نے سینکڑوں میل تک زمین کو ہلا دیا۔کانگڑہ اور اس کے مندر اور اس کی سرائیں برباد ہو گئیں آٹھ میل پر دھر مسالہ کی چھاؤنی تھی اس کی بیر کیں زمین کے ساتھ مل گئیں اور ان کو ٹھیوں کی جو موسم گرما میں انگریزوں کی سکونت کے لیے تھیں اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ڈلہوزئی اور بکلوہ کی چھاؤنیوں کی عمارتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔دیگر شہروں اور دیہات کو بھی سخت صدمہ پہنچا اور ہیں "ہزار آدمی اس زلزلے سے موت کا شکار ہوئے۔طبقات الارض کے ماہر حیران رہ گئے کہ اس زلزلے کا کیا باعث تھا مگر وہ کیا جانتے تھے کہ اس زلزلے کا باعث حضرت مسیح موعود کی تکذیب تھی اور اس کی غرض لوگوں کو اس کے دعوے کی طرف توجہ دلائی تھی۔وہ اس کا باعث زمین کے نیچے تلاش کر رہے تھے مگر در حقیقت اس کا باعث زمین کے اوپر تھا اور کانگڑے کی خاموش شدہ آتش فشاں پہاڑی اپنے رب کا حکم پورا کر رہی تھی۔اس زلزلے کے علاوہ آپ نے اور بہت سے زلزلوں کی خبر دی جو اپنے وقت پر آئے اور بعض ابھی آئیں گے۔