دعوت الامیر — Page 310
(I۔) دعوة الامير زمانے کی خبریں ہیں اور نہ معلوم کس وقت پوری ہوں گی ، ایک وہ وقت ہے جو دُعا سے مرتے ہیں اور دوسرا وہ وقت آتا ہے کہ دعا سے زندہ ہونگے۔جس وقت یہ آخری پیشگوئی شائع ہوئی ہے اس وقت طاعون صرف بمبئی میں پڑی تھی اور ایک سال رہ کر رک گئی تھی اور لوگ خوش تھے کہ ڈاکٹروں نے اس کے پھیلنے کو روک دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاعیں اس کے برخلاف کہہ رہی تھیں جبکہ لوگ اس مرض کے حملے کو ایک عارضی حملہ خیال کر رہے تھے اور پنجاب میں صرف ایک دو گاؤں میں یہ مرض نہایت قلیل طور پر پایا جاتا تھا۔باقی کل علاقہ محفوظ تھا اور بمبئی کی طاعون بھی بظاہر دبی ہوئی معلوم ہوتی تھی اُس وقت آپ نے ایک اور اعلان کیا اور اس میں بتایا کہ ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جولوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶ / فروری ۱۸۹۸ ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خُدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگارہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارہ میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيَرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ۔(تذکرہ صفحہ ۳۱۴-۳۱۵ ایڈیشن چهارم) یعنی