دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 397

دعوت الامیر — Page 311

۳۱۱ دعوة الامير جب تک دلوں کی وباء معصیت دُور نہ ہو تب تک ظاہری و باء بھی دور نہیں ہوگی ( تذکرہ صفحہ ۳۱۳- ۳۱۴۔ایڈیشن چہارم) اس اشتہار کے آخر میں چند فارسی اشعار بھی لکھے ہیں جو یہ ہیں گر آں چیزے کہ می بینم عزیزان نیز دیدند ز دنیا تو بہ کر دندے بچشم زار و خونبارے خور تاباں سیه گشت است از بدکاری مردم زمیں طاعوں ہمی آرد پنے تخویف و انذارے به تشویش قیامت ماند ایں تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آں مجز محسن کردارے من از همدردی است گفتم تو خود ہم فکر گن بارے خرداز بہیر این روز است اے داناو ہشیارے ایام الصلح صفحہ ۱۳۷۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۶۳) ان پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ آپ نے ۱۸۹۴ء سے پہلے ایک خطر ناک عذاب اور پھر گھلے لفظوں میں وباء کی پیشگوئی کی اور پھر جب کہ ہندوستان میں طاعون نمودار ہی ہوئی تھی کہ آپ نے خصوصیت کے ساتھ پنجاب کی تباہی کی خبر دی اور آنے والی طاعون کو قیامت کا نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہ طاعون اس وقت تک نہیں جائے گی جب تک کہ لوگ دلوں کی اصلاح نہ کریں گے۔اس کے بعد جو کچھ ہوا الفاظ اُسے ادا نہیں کر سکتے۔طاعون کی ابتداء گو بمبئی سے ہوئی تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ وہیں اس کا دورہ سخت ہونا چاہئے مگر وہ تو پیچھے رہ گیا اور پنجاب میں طاعون نے اپنا ڈیرہ لگالیا اور اس سختی سے حملہ کیا کہ بعض دفعہ ایک ایک ہفتے میں تیس تیس ہزار آدمیوں کی موت ہوئی اور ایک ایک سال میں کئی کئی لاکھ آدمی مر گئے۔سینکڑوں ڈاکٹر مقرر کئے گئے اور بیسیوں قسم کے علاج نکالے گئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ہر سال طاعون مزید شدت اور سختی کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور گورنمنٹ منہ دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی اور بہت سے لوگوں کے دلوں نے محسوس کیا کہ یہ عذاب مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں