دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 397

دعوت الامیر — Page 298

۲۹۸ دعوة الامير اور عدالتوں میں بھی ناکامی ہوئی اور بیماری کی بھی تکلیف بڑھ گئی تو ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکا اور پاگل ہو گیا اور ایک دن اُس کے چند مرید جب اس کا وعظ سننے کے لئے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے تمام جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔اُس نے ان سے کہا کہ اس کا نام جیری ہے اور وہ ساری رات شیطان سے لڑتا رہا ہے اور اس جنگ میں اس کا جرنیل مارا گیا ہے اور وہ خود بھی زخمی ہو گیا ہے اس پر ان لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص بالکل پاگل ہو گیا ہے اور وہ بھی اس کو چھوڑ گئے اور حضرت اقدس کے یہ الفاظ کہ وہ ” میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا۔“ آٹھ مارچ ۱۹۰۴ ء کو پورے ہو گئے یعنی ڈوئی حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر گیا اس کی موت کے وقت اس کے پاس صرف چار آدمی تھے اور اس کی پونچھی کل تیس روپے کے قریب تھی۔اے بادشاہ! اس سے بڑھ کر حسرت اور اس سے بڑھ کر دُکھ کی کیا کوئی اور موت ہو سکتی ہے؟ یقینا یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے اور اہلِ مغرب کے لیے گھلا گھلا نشان۔چنانچہ بہت سے اخبارات نے اس امر کو تسلیم کیا کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے۔مثال کے طور پر میں چند اخبارات کے نام لکھ دیتا ہوں۔ڈونول گزٹ (Dunnville Gazette)امریکن اخبار اس واقعہ کا ذکر کے لکھتا ہے۔اگر احمد اور ان کے پیرو اس پیشگوئی کے جو چند ماہ ہوئے پوری ہوگئی ہے نہایت صحت کیساتھ 66 پورا ہونے پر فخر کریں تو اُن پر کوئی الزام نہیں۔کے جون ۱۹۰۴ء امریکہ کا اخبار رتھ سیکر (۱۵ جون ۱۹۰۴ء) لکھتا ہے: ” ظاہری واقعات چیلنج کر نے والے کے زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے خلاف تھے مگر وہ جیت گیا۔یعنی حضرت