دعوت الامیر — Page 289
۲۸۹ دعوة الامير اعلان کر دیا کہ میں اب بھی مسیحی مذہب کو سچا سمجھتا ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے جس کا دلوں اور دماغوں پر تصرف ہے اُس کے انہیں اعلانات میں اس کے قلم سے یہ نکلوا دیا کہ میں مسیح کو دوسرے مسیحیوں کی طرح خدا نہیں سمجھتا اور جیسا کہ الہام کے الفاظ او پر نقل کئے گئے ہیں پیشگوئی یہ تھی کہ جو ایک بندے کو خدا بنارہا ہے وہ ہادیہ میں گرایا جاوے گا اور آتھم نے اقرار کر لیا کہ وہ مسیح کو خدا نہیں سمجھتا مگر پھر بھی اس پر زور دیا گیا کہ اگر وہ فی الحقیقت ان ایام میں اپنے مذہب کی سچائی کے متعلق متردد نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا احساس اُس کے دل میں نہیں پیدا ہوگیا تھا تو وہ قسم کھا کر اعلان کر دے کہ میں ان ایام میں برابرا نہیں خیالات پر قائم رہا ہوں جو اس سے پہلے میرے تھے۔اگر وہ قسم کھا جائے اور ایک سال تک اُس پر عذاب الہی نہ آئے تو پھر ہم جھوٹے ہوں گے اور یہ بھی لکھا کہ اگر آٹھ قسم کھا جائے تو اسے ہم ایک ہزار روپیہ بھی انعام دیں گے۔اس کا جواب آتھم نے یہ دیا کہ اُس کے مذہب میں قسم کھانی جائز نہیں حالانکہ انجیل میں حواریوں کی بہت سی قسمیں درج ہیں اور سیحی حکومتوں میں کوئی بڑا عہدہ دار نہیں جسے بغیر قسم کھانے کے عہدہ دیا جائے یہاں تک کہ بادشاہ کو بھی قسم دی جاتی ہے، جوں کو بھی قسم دی جاتی ہے اور ممبران پارلیمنٹ کو بھی قسم دی جاتی ہے، عہدیداران سول و فوج کو بھی قسم دی جاتی ہے اور عدالتوں میں گواہوں کو بھی قسم دی جاتی ہے بلکہ مسیحی عدالتوں کا تو یہ قانون ہے کہ انہوں نے قسم کو صرف مسیحیوں کے لیے مخصوص کر دیا سوائے مسیحیوں کے دوسروں سے وہ قسم نہیں لیتیں بلکہ گواہی کے وقت یہ کہلواتی ہیں کہ میں جو کچھ کہوں گا خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہوں گا۔پس جبکہ مسیحیوں کے نزدیک قسم صرف مسیحیوں کا حق ہے تو اس کا یہ عذر بالکل نامعقول تھا اور صرف قسم سے بچنے کے لئے تھا کیونکہ وہ اُن ہیبت ناک نظاروں کو پہلے دیکھ چکا تھا جو اس کو یقین دلا رہے تھے