دعوت الامیر — Page 288
۲۸۸ دعوة الامير اور خیالی سانپ اور کتے اُسے کاٹنے کو دوڑتے۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف نہیں سمجھنے لگ گیا تھا تو کیوں اُسے خدا کی تمام مخلوق اپنے خلاف کھڑی نظر آتی تھی اور وہ مسیحیت کی قلمی اور زبانی ہر قسم کی مدد کا کام یک لخت ترک کر کے شہروں میں بھاگتا پھرا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں جو دوسری شق رجوع الی الحق کی بتائی تھی اور جو کہ پہلی شق سے زیادہ مشکل تھی وہ عجیب طور پر پوری ہوئی اور آتھم کا دل مسیح کی خدائی میں شک لانے لگ گیا اور اسلام کی سچائی کا نقش اس کے دل پر جم گیا ، تب اللہ تعالیٰ کی خبر کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوا۔یعنی باوجود اس کے کہ اسے اندرونی خوف نے موت کے بالکل قریب کر دیا تھا، پندرہ ماہ تک زندہ رکھا گیا تا کہ اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو کہ اگر اس نے رجوع کیا تو وہ بچایا جائے گا۔یہ ایک زبردست پیشگوئی تھی جو لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی لیکن اگر یہ خاموشی سے گزرجاتی تو شاید کچھ مدت کے بعد لوگ کہہ دیتے کہ آتھم نے کوئی رجوع نہ کیا تھا۔یہ آپ لوگوں کی بناوٹ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کی مزید وضاحت کے لئے مسیحیوں اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو کھڑا کر دیا جو ایک مسیحی کی حمایت میں شور کرنے لگے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی اور آتھم نہیں مرا۔اس پر اُن کو بتایا گیا کہ پیشگوئی کی دوصورتیں تھیں، اُن میں سے دوسری صورت وضاحت سے پوری ہوگئی ہے مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ آتھم نے ہرگز رجوع نہیں کیا اس پر آتھم کو حضرت اقدس نے دعوت دی کہ اُس کے مسیحی اور مسلمان وکیل جو کچھ کہ رہے ہیں اگر سچ ہے تو اسے چاہئیے کہ قسم کھا کر اعلان کرے کہ اس کے دل میں اس عرصے میں اسلام کی صداقت اور مسیحی عقائد کے باطل ہونے کے خیالات نہیں آئے ،مگر اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا ہاں ہل قسم کے ایک