دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 397

دعوت الامیر — Page 286

(PAY) دعوة الامير پہلو یہ تھے کہ اگر آتھم ضد پر قائم رہا تو پندرہ ماہ میں مرجائے گا اور آتھم کا ضد پر قائم رہنا ایک طبعی امر تھا کیونکہ مسیحیوں کا ایک بڑا عالم تھا، متعدد کتب مسیحیت کی تائید میں اور اسلام کے خلاف لکھ چکا تھا، دنیاوی حیثیت سے بھی نہایت معزز تھا اور انگریزوں کے ساتھ اس کے بہت سے تعلقات تھے۔اس عظیم الشان مباحثہ میں تمام پادریوں کو چھوڑ کر اسے مقابلہ کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور بڑے بڑے پادری اس کے مددگار اور نائب بنے تھے۔پس ایسے شخص کی نسبت یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کو میسحیت پر کامل یقین تھا اور یہ کہ وہ مسیحیت کی اس قدر تائید کرنے اور اُس کا سب سے بڑا مناظر قرار پانے کے بعد مسیح کی خدائی کا ایک منٹ کے لئے بھی منکر نہ ہوگا اور کبھی اسلام کی معجزانہ طاقت کا خیال اپنے دل میں نہیں آنے دے گا اور یہ بات کہ اس صورت میں وہ پندرہ ماہ میں مرجاوے گا گواپنی ذات میں شاندار ہے مگر پھر بھی ایک پینسٹھ سال کی عمر کے آدمی کی نسبت شبہ کیا جا سکتا تھا کہ شاید اس کی عمر ہی پوری ہو چکی ہو مگر اُن کے مقابلے میں دوسری صورت کے دونوں پہلو زیادہ شاندار ہیں یعنی یہ کہ اگر وہ رجوع کرلے گا تو پندرہ ماہ کے اندر ہادیہ موت میں نہیں گرایا جائے گا۔اس صورت کا پہلا پہلو بھی کہ آتھم رجوع کرلے اس بات سے کہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے زیادہ شاندار ہے کیونکہ کسی انسان کی موت تو انسانوں کے ہاتھوں سے بھی آسکتی ہے مگر کسی کو پندرہ ماہ تک زندہ رکھنا کسی کے اختیار میں نہیں ہے پس اگر دوسری صورت پیشگوئی کی پوری ہوتی تو وہ پہلی صورت کے پورے ہونے کی نسبت بہت شاندار ہوتی اور اللہ تعالیٰ نے جس کے آگے کوئی بات نا ممکن نہیں اس دوسرے پہلو کو ہی جو زیادہ مشکل تھا اختیار کیا یعنی اس نے اپنا رُعب اس کے دل پر ڈال دیا اور پہلا اثر اس پیشگوئی کا یہ ظاہر ہوا کہ آتھم نے عین مجلس مباحثہ میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ