دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 397

دعوت الامیر — Page 16

دعوة الامیہ پینے کے زندہ ہے مسیح ناصری بھی بلا حوائج انسانی کو پورا کرنے کے آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ہم مسیح علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں مگر صرف اس لئے کہ وہ ہمارے خدا کا نبی ہے۔ہم اس سے محبت کرتے ہیں مگر صرف اس لئے کہ خدا سے اسے محبت تھی اور خدا کو اس سے محبت تھی۔اس سے ہمارا سب تعلق طفیلی ہے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر ہم اپنے خدا کی ہتک کریں اور اس کے احسانوں کو فراموش کر دیں اور مسیحی پادریوں کو جو اسلام اور قرآن کے دشمن ہیں مدد دیں اور ان کو یہ کہنے کا موقع دیں کہ دیکھو وہ جو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے کیا وہ خدا نہیں۔اگر وہ انسان ہوتا تو کیوں باقی انسانوں کی طرح مر نہ جا تا۔ہم اپنے منہ سے کس طرح خدا تعالیٰ کی توحید پر حملہ کریں اور اپنے ہاتھ سے کیونکر اس کے دین پر تبر رکھدیں اس زمانے کے مولوی اور عالم جو چاہیں ہمیں کہیں اور جس طرح چاہیں ہم سے سلوک کریں اور کروائیں۔خواہ ہمیں پھانسی دیں، خواہ سنگسار کریں ہم سے تو مسیح کی خاطر خدا نہیں چھوڑا جا سکتا اور ہم اس گھڑی سے موت کو ہزار درجہ بہتر سمجھتے ہیں جب ہماری زبانیں یہ کفر کا کلمہ کہیں کہ ہمارے خدا کے ساتھ وہ بھی زندہ بیٹھا ہے جسے مسیحی خدا کا بیٹا کہہ کر خدائے قیوم کی ہتک کرتے ہیں۔اگر ہمیں علم نہ ہوتا تو بیشک ہم ایسی بات کہہ سکتے تھے مگر جب خدا کے فرستادہ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور اس کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی شوکت اور اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے مقام کو ہمارے لئے ظاہر کر دیا تو اب خواہ کچھ بھی ہو ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی بندہ کو اختیار نہیں کر سکتے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم نہیں جانتے کہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا کیونکہ سب عزتیں اور سب مدارج اسی کی طرف سے ہیں۔ہمیں جب صاف نظر آتا ہے کہ مسیح کی زندگی میں ہمارے رب کی ہتک ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیونکر حیح تسلیم کر لیں اور گو ہماری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں مسیح کی وفات ماننے