دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 397

دعوت الامیر — Page 248

(TCA) دعوة الامير نے حضرت آدم کو سب صفات الہیہ کے معنے صفات الہیہ کا علم دیا اور صفات الہیہ کے علم کے ماتحت سب قسم کا علم آجاتا ہے کیونکہ معرفت الہیہ کے معنے صفات الہیہ کا ایسا علم ہی ہے جو مشاہدہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ علم ہر مامور کو دیا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط کی نسبت فرماتا ہے۔وَلُوطًا أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَعِلْمًا (الانبیاء: ۷۵) اور حضرت داؤ د وسلیمان کی نسبت فرماتا ہے ولَقَدْ آتَيْنَا دَاوَدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا (النمل: ۱۶) اور حضرت یوسف کی نسبت فرماتا ہے وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا (یوسف:۲۳) اور حضرت موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَالِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ (القصص:۱۵) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء: ۱۱۴) کہ آپ کو وہ علم سکھایا ہے جو پہلے آپ کو معلوم نہ تھا اور پھر اور علوم کے اظہار کا وعدہ کرتا ہے اور یہ دعا سکھا تا ہے۔قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵)۔پس ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر مامور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص علم دیا جاتا ہے۔چنانچہ اسی قسم کا علم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو۔بھی دیا گیا۔صرف فرق یہ ہے کہ پہلے ماموروں کو تو صرف باطنی علم دیا جاتا تھا مگر آپ کو اپنے مطاع اور آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کا علم دیا گیا۔یعنی علم روحانی بھی دیا گیا اور اس کے بیان کرنے کا اعلی طریق بھی بخشا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دونوں باتوں میں آپ کو بے نظیر بنایا، نہ تو علوم باطنیہ کے جاننے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ان کے بیان کرنے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ان دونوں قسم کے علموں میں سے پہلے میں ظاہری قسم کا علم لیتا ہوں۔یہ معجزہ آپ