دعوت الامیر — Page 241
۲۴۱ دعوة الامير پہلے کبھی جائز تھا۔پس ملائکہ کو سجدے کا حکم دینے سے مراد عبادت کرنے والا سجدہ تو نہیں ہو سکتا اس سے ضرور کچھ اور مراد ہے اور وہ مراد مطابق لغت عربی کامل فرمانبرداری ہے۔جس طرح سجدہ کے معنے سجدہ عبادت کے ہیں۔سجدے کے معنے اطاعت کے بھی ہیں۔لسان العرب کی جلد ۴ میں لفظ سجد کے نیچے لکھا ہے وَكُلُّ مَنْ ذَلَّ وَخَضَعَ لِمَا أُمِرَ بِهِ فَقَدْ سَجَدَ (لسان العرب جلد ۴ صفحه ۱۸۹ ، ۹۰ از یر لفظ سجد‘ ایڈیشن اول مطبوعہ مصر ۱۳۰۰ھ لسان العرب جلد ۶ صفه ۱۷۶ زیر لفظ سجد، مطبوعہ بیروت لبنان ۱۹۸۸ء) یعنی جس نے کسی کا حکم پوری طرح مانا اس کی نسبت کہتے ہیں کہ اس نے سجدہ کیا۔پس آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ اُس کی فرمانبرداری کریں اور ملائکہ کی فرمانبرداری بندوں کے لئے یہ ہے کہ اُن کے کام میں مدد دیں اور یہ حکم آدم سے خاص نہیں ، بلکہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے اس کے لئے یہی حکم دیا جاتا ہے، بلکہ اگر کسی شخص کے لئے ملائکہ کو اس قسم کا حکم نہ دیا جائے تو وہ مامور کہلا ہی نہیں سکتا۔ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ ملائکہ نے آپ کے کام میں آپ کی مدد کی۔جیسے بدر کے موقع پر کہ ملائکہ نے کفار کے دلوں میں رعب ڈالا۔یا آپ کے کنکر پھینکنے پر آندھی زور سے چلی۔یا احزاب کے موقع پر آندھی نے ایک سردار کی آگ بجھا دی جس سے لشکر کفار پراگندہ ہو گیا۔یا مثلاً ایک یہودیہ کے زہر دینے پر اس کی شرارت آپ پر ظاہر ہوگئی ملائکہ کی فرمانبرداری کا اظہار زیادہ تر قوانین طبعیہ کے ذریعے سے ہوتا ہے وہ چونکہ قوانین طبعیہ کا سبب اول ہیں وہ ایسے مواقع پر جبکہ نبی اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ ہوتا ہے قوانین طبعیہ کو اس کی تائید میں لگا دیتے ہیں اور یہی سبب ہوتا ہے کہ جبکہ ظاہری اسباب نبیوں کے مخالف ہوتے ہیں نتیجہ ان کے حق