دعوت الامیر — Page 240
(rr۔) آٹھویں دلیل سجدہ ملائکہ دعوة الامير قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کو پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں (واذقلنا للملئكة اسجدوا لأدم البقرة: ۳۵)۔سجدہ ایک عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور چیز کے آگے سجدہ کرنا خواہ وہ کس قدر ہی عظمت اور شوکت رکھتی ہو جائز نہیں۔حتی کہ انبیاء اور انبیاء میں سے ان کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے بھی جائز نہیں اور یہی نہیں کہ سجدہ کرنا غیر اللہ کو جائز نہیں بلکہ سخت گناہ ہے اور اس فعل کا مرتکب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے فضل سے محروم رہ جاتا ہے۔پس سجدے سے مراد وہ سجدہ تو نہیں ہوسکتا جو بطور عبادت کیا جاتا ہے۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ پہلے زمانے میں سجدہ کرنا جائز ہوگا بعد میں منع ہو گیا کیونکہ شرک ان گناہوں میں سے نہیں جو کبھی جائز ہوں اور کبھی منع ہو جائیں۔تو حید باری اصل الاصول ہے اور اس میں کسی وقت بھی تغیر نہیں ہوسکتا اور اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ پہلے غیر اللہ کو سجدہ جائز تھا لیکن بعد میں اُسکو شرک قرار دیکر حرام کر دیا گیا، تو پھر شیطان کا حق ہے کہ دعویٰ کرے کہ جو بات میں پہلے کہتا تھا آخر نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو بھی کرنی پڑی۔میرا بھی تو یہی عذر تھا کہ غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کر سکتا۔اللہ کے آگے سجدہ کرنے سے تو میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔غرض کسی صورت میں غیر اللہ کے آگے سجدہ جائز نہیں ہوسکتا ، نہ اب جائز ہے اور نہ