دعوت الامیر — Page 223
(rrr) دعوة الامير ان تمام گروہوں نے اپنی اپنی جگہ پر آپ کے تباہ کرنے کے لئے پورا پور از ور لگایا علماء نے کفر کے فتوے تیار کئے اور مکہ اور مدینہ تک اپنے کفر ناموں پر دستخط کرانے کے لئے گئے۔اپنی عادتِ مُسْتَمِرہ کے ماتحت کفر کے عجیب وغریب موجبات انہوں نے تلاش کئے اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑ کا یا اورا کسایا۔صوفیاء نے آپ کے طریق کو پچھلے طریقوں کے مخالف بتا بتا کر اور اپنے قرب الی اللہ اور معرفت کی لافوں سے ڈرا ڈرا کر عوام الناس کو روکا اور جھوٹے افسانوں کے پھیلانے اور فریب کی کرامتیں دکھانے تک سے بھی گریز نہ کیا اور بعض نے تو اپنے مریدوں سے یہاں تک کہدیا کہ اگر یہ بچے ہوئے تو ان کے نہ ماننے کا گناہ ہم اٹھا لیں گے تم لوگ کچھ فکر نہ کرو اور اس طرح جہان کو گمراہ کیا۔اُمراء نے اپنی دولت اور اپنی وجاہت سے آپ کے خلاف کوشش شروع کی۔غیر مذاہب والوں نے اپنی جگہ مسلمانوں کا ہاتھ بٹایا، حکومتوں نے اپنے اقتدار سے کام لے کر لوگوں کو آپ سے ڈرانا شروع کیا اور جو لوگ آپ کو ماننا چاہتے ان کو اپنی ناراضگی کا خوف دلا کر باز رکھنا چاہا۔عوام الناس بائیکاٹ اور ایذارسانی سے کام لے کر اپنے سرداروں کا ہاتھ بٹاتے رہے۔غرض آپ کی مخالفت کے لئے تمام لوگ کیا مسلمان کہلانے والے اور کیا غیر مسلمان سب جمع ہو گئے اور سب نے ایک دوسرے کی مدد کی۔تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ کی تعلیم بھی ایسی نہ تھی جو زمانے کے حالات کے مطابق ہو اور اس کی رو میں بہنے والی ہو۔اگر وہ خیالات زمانہ کے مطابق ہوتی تو بھی کہا جاسکتا تھا کہ آپ کی ترقی آسمانی مدد سے نہیں بلکہ اس سبب سے ہے کہ جن خیالات کو آپ