دعوت الامیر — Page 209
(r۔q) دعوة الامير کیونکہ عبودیت کے معنے تذلل اور دوسری شے کے نقش کو قبول کر لینے کے ہوتے ہیں۔پس یہ خیال کرنا کہ انسان پیمان ساتھ سال تک تو اس کام کو کرے گا جس کے لئے پیدا کیا گیا تھا اور بعد میں ایک نہ ختم ہونے والے وقت کو کھانے پینے اور عیش وعشرت میں بسر کرے گا جو حد درجہ کی نادانی تھی، اسی طرح دوزخ کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کفار کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب کے لئے ڈال دیا اور ایک سخت حاکم کی طرح پھر کبھی ان پر رحم نہ کرے گا۔حضرت اقدس نے ان خیالات کو بھی رڈ کیا اور دلائل اور معجزات سے بعث بعد الموت پر ایمان کولوگوں کے دلوں میں قائم کیا اور دنیا کی بے ثباتی اور اخروی زندگی کی خوبی اور برتری کو روز روشن کی طرح ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اس کے مطابق عمل کرنے کی خواہش کو پیدا کیا۔اسی طرح جنت کے متعلق جو لغو خیالات لوگوں کے تھے ان کو بھی دور کیا، یہ و ہم بھی دور کیا کہ جنت صرف ایک استعارہ ہے اور ثابت کیا کہ جنت کا وجود ایک حقیقت ہے اور اس خیال کی غلطی بھی ثابت کی کہ گویا وہ اس دُنیا کی طرح ہے لیکن اس سے زیادہ وسیع پیمانے کی آرام و آسائش والی جگہ ہے اور بتایا کہ درحقیقت اس جگہ کی نعمتیں اس دنیا سے بالکل مختلف ہیں اور در حقیقت اس جگہ کی مادی نعمتیں اس دنیا کی عبادات کے متمثلات ہیں۔گویا یہاں کی روح وہاں کا جسم ہے اور وہاں کی روح ایک اور ترقی یافتہ چیز ہے جس کی طاقتیں اس روح سے بہت بالا ہوں گی۔جس طرح کہ نطفہ کی روحانی طاقتوں سے اس سے پیدا ہونے والے انسان کی روحانی طاقتیں اعلیٰ ہوتی ہیں اسی طرح آپ نے یہ ثابت کیا کہ دوزخ کا عذاب جسے لوگ نہ ختم ہونے والا کہتے ہیں در حقیقت ایک وقت پر جا کر ختم ہو جائے گا وہ ابدی ہے یعنی ایک نہایت لمبے عرصہ تک