دعوت الامیر — Page 208
(r۔) دعوة الامير شور بختی ہائے بختِ شان یہ ہیں ناز بر چشم و گریزاں از خورے چشم گر بودے غنی از آفتاب کس نبودے تیز میں بچوں شیرے چون بروز ابتدا تقسیم کرد درمیان خلق از خیر و شرے راستی در حصه او شان فتاد دیگران را کذب شد آبش خوری قول شان ایں ست کا ندر غیرشان آمده صد کاذب و حیلت گرے لعل تابان را اگر گوئی کثیف زین چه قدر روشن جو ہرے طعنه بر پاکان نه بر پاکان بود خود گنی ثابت کہ ہستی فاجرے کا ہد ( براھین احمد یہ چہار حصص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۰ تا ۲۳) پانچواں رکن ایمان کا بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ پر ایمان لانا ہے اس رکن کے انہدام کے لئے بھی اس زمانے کے مسلمانوں نے پورا زور لگایا تھا، دل تو یقینا بعث بعد الموت کے منکر ہو چکے تھے۔کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کی تعلیم کو اس طرح پسِ پشت کیوں ڈال دیا جاتا ؟ ظاہری طور پر بھی لوگوں میں اس کے متعلق عجیب عجیب خیالات پھیل رہے تھے، جنت کا جو نقشہ مسلمانوں کے ذہنوں میں سما گیا تھا وہ بتا رہا تھا کہ جنت کا اصل مفہوم لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہے جنت اب کیا چیز رہ گئی تھی ، ایک عیش و عشرت کا مقام، گویا اس دنیا میں انسان کی پیدائش صرف اس غرض کے لئے تھی کہ وہ ایک ایسی جگہ پر جابسے جہاں ہر طرح کے کھانے پینے کی اشیاء ہوں اور عورتیں ہوں اور اُن کی صحبت ہو۔جب یہ حاصل ہو گیا تو سب کچھ حاصل ہو گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ لِيَعْبُدُونِ (الدريت :۵۷) اس لئے کہ وہ میری عبادت کرے۔یعنی ایسی صورت اختیار کرے کہ میری صفات کو اپنے اندر نقش کر لے