دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 397

دعوت الامیر — Page 207

(r۔) دعوة الامير کی تعلیم کے خلاف تھے اور ان صحیح روایتوں کو نظر انداز کر دیا جو انبیاء کی عصمت اور ان کی پاکیزگی پر دلالت کرتی تھیں اور ان وساوس کے لئے بمنزلہ تیز تلوار کے تھیں جس کی ضرب کو وہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتے تھے۔مگر الحمد للہ کہ حضرت اقدس نے اس گندگی کو ظاہر کر دیا اور انبیاء کے صحیح مرتبہ کو پھر قائم کر دیا اور ان کی عزتوں کی حفاظت کی ، خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کی پاکیزگی کو تو نہ صرف الفاظ میں بیان کیا، بلکہ ایسے زبردست دلائل سے ثابت کیا کہ دشمن کا منہ بھی بند ہو گیا۔بقول حضرت اقدس ہر رسولے آفتاب صدق بود ہر رسولی بود ظلِ دین پناه ہر رسولی بود مہر انورے ہر رسولی بود باغ مثمرے گر بدنیا آمدے ایں خیل پاک کار دیں ماندے سراسر ابترے ہر کہ شکر بعث شاں نارد بجا هست او آلائے حق را کافرے آں ہمہ از یک صدف صد گوہراند متحد در ذات و اصل و گوہرے اوّل آدم آخر شان احمد است اے خنک آنکس که بیند آخرے انبیاء روشن گهر هستند لیک هست احمد زان ہمہ روشن ترے آں ہمہ کان معارف بوده اند ہر یکے از راه مولی مُخبرے هر که را علم ز توحید حق است ہست اصل علمش از پیغمبرے آن رسیدش از رو تعلیم با گو شود اکنوں ز نخوت منکرے ہست قومے کج روو ناپاک رائے آنکہ زیں پاکان ہمی پیچد سرے دیده شان روئے حق ہرگز ندید بس کردند روئے دفتری