دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 397

دعوت الامیر — Page 206

دعوة الامير ہیں جو تاریخی طور پر ثابت نہیں ہو سکتے آپ کی باقی زندگی ان روایات کے بالکل برخلاف ہے اور جس قدر اس قسم کی باتیں آپ کی نسبت یا دوسرے انبیاء کی نسبت مشہور ہیں وہ یا تو منافقوں کے جھوٹے اتہامات کی بقیہ یادگاریں ہیں، یا کلام الہی کے غلط اور خلاف مراد معنی کرنے سے پیدا ہوئی ہیں۔آپ نے نہایت وضاحت سے قرآن کریم سے بدلائل قاطعہ ثابت کر دیا کہ در حقیقت اس قسم کے خیالات اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ یہ خیالات مسلمانوں میں مسیحیوں سے آئے تھے کیونکہ مسیحیوں نے حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ وہ سب نبیوں کی عیب شماری کرتے تھے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ چونکہ گناہوں سے پاک صرف حضرت مسیح ہیں، اس لئے ضرور وہ انسانیت سے بالا طاقتیں رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی سب نبیوں کے عیب تو گنائے جاتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اتہامات لگائے جاتے ہیں، مگر حضرت مسیح کو بالکل بے گناہ قرار دیا جاتا اور آپ ہی کو نہیں بلکہ آپ کی والدہ کو بھی بالکل پاک قرار دیا جاتا ہے کیا یہ اس امر کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ جھوٹے افسانے اور قابل نفرت قصے مسلمانوں میں مسیحیوں سے ہی آئے ہیں جن کے بداثر کو یا تو بوجہ ایک جگہ رہنے کے مسلمانوں نے قبول کر لیا، یا بعض شریر الطبع لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر کے اس قسم کی مخزیات اور باطل باتیں مسلمانوں میں پھیلانی شروع کر دیں جنہیں ابتداء تو ہمارے مؤرخوں اور محدثوں نے اپنی مشہور دیانتداری سے کام لیکر صحیح روایات کے ساتھ جمع کردیا تھا تا کہ مخالف اور موافق سب روایات لوگوں تک پہنچ جائیں مگر بعد کو آنے والے ناخلف لوگوں نے جو نور نبوت سے خالی ہو چکے تھے ان شیطانی وساوس کو تو قبول کر لیا جو قرآن کریم