دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 397

دعوت الامیر — Page 199

(199) دعوة الامير ترجمہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں اور کم سے کم ہر شخص کو اس قدر حصہ قرآن کریم کا ضرور سکھا دیا جائے جو نماز میں اس کو پڑھنا پڑتا ہے۔آپ نے اس خیال کو بھی کہ قرآن کریم ایک مجمل کتاب ہے اس میں اشارۃ بعض باتیں بیان کی گئی ہیں نہایت واضح دلائل سے رد کر کے بتایا کہ قرآن کریم جیسی جامع و مانع کتاب تو دنیا بھر میں نہیں مل سکتی یہ تم لوگوں کا اپنا قصور تھا کہ اس پر غور کرنا تم نے چھوڑ دیا اور اس طہارت کو حاصل نہ کیا جس کے بغیر اس کے مطالب کا القاء انسان کے قلب پر نہیں ہوتا کیونکہ لَا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه :۸۰) کا ارشاد ہے۔پس اپنی کوتاہ نہی کو قرآن کریم کی طرف منسوب نہ کرو اور پھر آپ نے تمام مسائل دینیہ کو قرآن کریم سے ہی استنباط کر کے پیش کیا اور دشمنان اسلام کے ہر اعتراض کو قرآن کریم سے ہی رد کر کے دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ علوم روحانیہ اور دینیہ اور اخلاقیہ کے متعلق قرآن کریم سے زیادہ واضح اور مفصل کتاب اور کوئی نہیں ، اس کے الفاظ مختصر ہیں لیکن مطالب ایک بحر ذخار کی طرح ہیں کہ ایک ایک جملہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں مطالب رکھتا ہے اور اس کے مضامین ہر زمانے کے سوالات اور شکوک کو حل کرتے ہیں اور ہر زمانے کی ضروریات کو وہ پورا کرتا ہے۔آپ نے اس خیال کو بھی رڈ کیا کہ قرآن کریم تقدیم و تاخیر سے بھرا پڑا ہے اور بتایا که قرآن کریم کے الفاظ اپنی اپنی جگہ پر ایسے واقع ہیں کہ ان کو ہرگز انکی جگہ سے ہلا یا نہیں جاسکتا۔لوگ اپنی نادانی سے اس میں تقدیم و تاخیر سمجھ لیتے ہیں ورنہ اس میں جو کچھ جس جگہ رکھا گیا ہے وہی وہاں درست بیٹھتا ہے اور اسی جگہ پر اس کے رکھنے سے وہ خوبی پیدا ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے اور آپ نے قرآن کریم کے مختلف مقامات کی تشریح کر کے اس مضمون کی صحت کو ثابت کیا اور ان لوگوں کے وسوسہ کو ر ڈ کیا جو اپنی کم علمی کی وجہ سے