دعوت الامیر — Page 198
(19) دعوة الامير کہ کلام ہونٹ اور زبان چاہتا ہے اور اللہ کے ہونٹ اور زبان نہیں کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے اللہ تعالیٰ تو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئ (الشوری: (۱۲) ہے اس پر انسانی طاقتوں کا اندازہ کر کے فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اگر کلام بغیر ہونٹ کے نہیں ہوسکتا تو اسی طرح کوئی چیز بغیر ہاتھوں کے نہیں بنائی جاسکتی، بلکہ مادی ہاتھوں کے بغیر نہیں بنائی جا سکتی تو کیا اللہ خالق بھی نہیں ہے؟ پس جس طرح اللہ تعالیٰ بلا مادی ہاتھوں کے اس تمام کائنات کو پیدا کر سکتا ہے اسی طرح بغیر مادی ہونٹ اور زبان ہونے کے وہ اپنی مرضی کو اپنے بندے پر الفاظ میں ظاہر کر سکتا ہے اور آپ نے اپنے تجربے کو پیش کیا اور بتایا کہ یہ وہم صرف اس کوچے سے ناواقفی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ خود مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے پس جبکہ وہ مجھ سے الفاظ میں کلام کرتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سب بنی آدم کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب تھے کیا وہ الفاظ میں کلام نہ کرتا ہوگا، اس سے زیادہ جاہل اور کون ہوگا جو جاہل ہوکر اس بحث میں دخل دے جواس کے علم سے بالا ہو اور نادان ہوکر اللہ کے رازوں کو اپنی عقل سے دریافت کرنے کی کوشش کرے۔آپ نے اس خیال کو بھی رڈ کیا کہ اللہ کے کلام کا ترجمہ نہیں ہوسکتا اور بتایا کہ جب تک لوگوں کو قرآن کریم کا مفہوم نہ پہنچایا جائے وہ اس کی خوبیوں سے کس طرح واقف ہوں گے؟ بیشک خالی ترجمہ کی اشاعت ایک جُرم ہے کیونکہ اس سے لوگوں کو متن سے بعد ہوتا جائے گا اور ممکن ہے کہ ترجمہ در ترجمہ سے وہ ایک وقت اصل حقیقت کو چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں کے لئے جو عربی زبان نہیں جانتے قرآن کریم کا ترجمہ اگر متن کے ساتھ ہو تو نہایت ضروری شئے ہے، ہاں یہ ضروری ہے کہ لوگوں میں عربی زبان کو اس قدر رواج دیا جائے کہ لوگ قرآن کریم کو اس کی اصل زبان میں پڑھ کر وہ برکات حاصل کر سکیں جو کہ