دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 397

دعوت الامیر — Page 192

احاله دعوة الامير دوسرا خطرناک عقیدہ گتپ الہیہ کے متعلق اور خصوصاً قرآن کریم کے متعلق یہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ کلام بھی شیطان کی دست برد سے پاک نہیں اور کہا جاتا ہے کہ بعض دفعہ شیطان الہام الہی میں دخل دیتا ہے اور آیت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِيَ الا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ (الحج: ۵۳) سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ہر نبی کے کلام کو سنتے وقت شیطان نے دخل دیا ہے اور ایسے حصے اس میں ملا دیئے ہیں جو شیطان کی طرف سے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھے اور عام قاعدے کے بیان کرنے پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سورہ نجم پڑھ رہے تھے جب ان آیات پر پہنچے کہ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ الأخرى (النجم: ۲۰-۲۱) تو آپ کی زبان پر شیطان نے نعوذ باللہ من ذالک کلمات جاری کر دیے تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتَرْتَجَى - (بخاری کتاب التفسیر تفسير سورة النجم باب قوله فاسجدو الله واعبدوا(حاشیه) ) یعنی یہ بت جو بمنزلۂ خوبصورت لمبی گردنوں والی حسین عورتوں کے ہیں ان سے شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔جب یہ الفاظ آپ کی زبان سے کفار نے سنے تو انہوں نے بھی سجدہ کر دیا۔بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ یہ الفاظ شیطان نے آپ کی زبان پر جاری کر دیئے تھے تو آپ کو بہت افسوس ہوا۔(نعوذ باللہ من ذالک) بعض لوگوں نے اس کہانی کو اگر حد سے زیادہ خلاف واقعہ اور نا قابل برداشت سمجھا ہے تو یہ کہہ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شیطان نے یہ فقرات جاری نہیں کئے تھے بلکہ آپ کی سی آواز بنا کر اس طرح یہ کلمات کہہ دیئے تھے کہ یہی سمجھ میں آتا تھا کہ گویا آپ نے یہ کلمات پڑھے ہیں۔اس بات کو صحیح سمجھنے سے قرآن کریم کے متعلق جو