دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 397

دعوت الامیر — Page 188

(IAA) دعوة الامير کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقتیں فلاں شخص کو دیدی ہیں۔یہ کوئی بھی نہیں کہتا کہ اس کا پیش کردہ معبود خدا تعالیٰ سے آزاد ہو کر دنیا پر حکومت کرتا ہے۔اس مطابق قرآن اور مطابق عقل تعلیم سے آپ نے شرک کی ظلمت کو دور کیا اور مسلمانوں کو وہ سیدھا راستہ دکھا یا جس کو ایک عرصہ سے چھوڑ چکے تھے اور اس طرح وہ کام سرانجام دیا جو مسیح کی آمد ثانی کے لئے مقرر تھا۔ایمان باللہ کے بعد اسلام کا دوسرا رکن ایمان بالملائکہ ہے اس رکن کو بھی مسلمانوں نے بالکل مسخ کر دیا تھا۔بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ملائکہ نعوذ باللہ گناہ بھی کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر بھی معترض ہو جاتے ہیں، آدم کے واقعہ میں ملائکہ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ گویا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی حکمتوں پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ وہ نَحْنُ نُسَبِّحْ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَگ (البقرہ : ۳۱) کہہ کر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے افعال پر نکتہ چینی کر ہی نہیں سکتے۔ہاروت اور ماروت کا قصہ ایسا دلخراش قصہ ہے کہ سنکر حیرت ہوتی ہے کہا جاتا ہے کہ دوفرشتے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آدمیوں کے بھیس میں بھیجے اور وہ ایک فاحشہ عورت پر عاشق ہو گئے اور آخر سزا کے طور پر ایک کنوئیں میں اوندھے منہ لٹکائے گئے نعوذ باللہ من ذالک اسی طرح کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک ابلیس ملائکہ کا استاد تھا۔بعض لوگ ملائکہ کی نسبت یہ عقیدہ رکھنے لگے ہیں کہ گویا وہ بھی مادی وجود ہیں آدمیوں کی طرح اِدھر اُدھر دوڑے دوڑے پھرتے ہیں۔عزرائیل کبھی اس کی جان نکالنے جاتے ہیں اور کبھی اس کی۔اس کے برخلاف بعض لوگ ملائکہ کے وجود ہی کے منکر وگئے ہیں اور ملائکہ کو ایک وہمی وجود قرار دیتے ہیں اور قرآن کریم کی آیات کی یہ تشریح