دعوت الامیر — Page 185
(IMO) دعوة الامير یہ لوگ اہل حدیث کہلاتے ہیں لیکن اس حدیث کو بھول جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت جابر کے والد عبد اللہ شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ مانگو جو کچھ مانگنا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ میری تو یہی خواہش ہے کہ مجھے زندہ کیا جائے اور میں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کروں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر میں نے اپنی ذات کی قسم نہ کھائی ہوتی تو میں تجھے زندہ کر دیتا، مگر چونکہ میں نے عہد کر لیا ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس لئے ایسا نہیں کروں گا ( ترمذی ابواب التفسیر تفسیر سورة ال عمران زیر آیت و ما كان لنبى ان يغل۔۔۔الخ) یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جس کام کو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ بھی نہیں کرتا اور جو اس کی صفات مخصوصہ میں سے ہے اسے مسیح علیہ السلام کس طرح کر سکتے تھے۔أخي المؤثى (آل عمران: ۵۰) کے الفاظ قرآن سے دھوکا کھاتے ہیں لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ نیا تھا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوَالِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِنِكُمْ (الانفال: ۲۵) اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات کو قبول کر لیا کرو جب ان میں سے کوئی تم کو بلائے تا کہ تم کو زندہ کرے تو اس وقت اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ زندگی سے مراد رُوحانی زندگی ہے۔جب احیاء کے معنے روحانی زندگی دینے کے بھی ہوتے ہیں اور جبکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کر سکتا اور جبکہ اس دنیا میں مردے زندہ کر کے اللہ بھی نہیں بھیجتا۔تو پھر کیوں احیاء کے وہ معنی نہیں لیتے جو کلام الہی کے مطابق ہوں اور جن سے شرک نہ پیدا ہوتا ہو۔اسی طرح یہ موحد کہلانے والے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کیا