دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 397

دعوت الامیر — Page 164

۱۶۴ دعوة الامير ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اسلام کی صف میں آکھڑے ہوں گے اور بٹالے کے پرگنہ میں ظاہر ہونے والے مصلح پر ایمان لا کر اور مومنوں کی جماعت میں شامل ہوکر کفر و بدعت کے مقابلہ میں ہمہ تن مشغول ہوجائیں گے۔تیسر احربہ جس سے آپ نے اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دیا اور جس کی موجودگی میں کوئی مذہب اسلام کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا یہ ہے کہ آپ نے دنیا کا نقطۂ نظر بالکل بدل دیا ہے آپ کے دعوے سے پہلے تمام مذاہب کی بحث اس طرز پر ہوتی تھی کہ ہر ایک دوسرے مذہب کے پیروؤں کو جھوٹا قرار دیتا تھا الا ما شاء الله۔یہودی حضرت مسیح کو مسیحی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، زرتشتی ان تینوں مذاہب کے انبیاء کو اور ان تینوں مذاہب کے پیروز رتشتیوں کے انبیاء کو پھر یہ چاروں دوسری دنیا کے سب بزرگوں کو اور ان کی اقوام کے لوگ ان چاروں مذاہب کے بزرگوں کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔یہ عجیب قسم کی جنگ تھی جس میں ہر قوم دوسری قوم سے لڑ رہی تھی مگر عقلمند آدمی کوسب مذاہب میں ایسے ثبوت ملتے تھے جن سے ان کا سچا ہونا ثابت ہوتا تھا۔پس وہ حیران تھا کہ سب مذاہب کے اندر سچائیاں پائی جاتی ہیں اور سب مذاہب ایک دوسرے کے بزرگوں کو جھوٹا بھی کہہ رہے ہیں۔یہ بات کیا ہے؟ اس جنگ کا نتیجہ یہ تھا کہ تعصب بڑھ رہا تھا اور اختلاف ترقی کر رہا تھا، ایک طرف ہندو اپنے بزرگوں کے حالات کو پڑھتے تھے اور ان کی زندگیوں میں اعلیٰ درجے کے اخلاقی کمال دیکھتے تھے۔دوسری طرف دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے سنتے تھے کہ وہ جھوٹے اور فریبی تھے تو ان کو ان کی عقل پر حیرت ہوتی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے دوسری طرف دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے بزرگوں کی